بتایا گیا کہ استاد ہوں پھر بھی تشدد کرتے رہے، عارف ساقی کا انکشاف

image

"میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک تھا۔ جب نوجوان نے مجھ پر تشدد کیا تو میں نے اسے بتایا کہ میں ایک استاد ہوں، لیکن اس کے باوجود مجھے مارا جاتا رہا۔ پولیس بروقت پہنچ کر مجھے اپنی تحویل میں نہ لیتی تو شاید آج میں زندہ نہ ہوتا۔ سیاسی یا غیرسیاسی ہونے سے مجھے کوئی غرض نہیں، میرے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس پر آواز اٹھانا میرا حق ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں زندہ ہوں اور میری آواز سنی گئی۔"

جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی نے صفورا چورنگی کے قریب پیش آنے والے تشدد کے واقعے پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر بااثر افراد اور ان کے گارڈز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق واقعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک ویگو نے ریورس کرتے ہوئے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری اور نقصان کی بات کرنے پر معاملہ تلخ ہوگیا۔

پروفیسر عارف ساقی کا دعویٰ ہے کہ ویگو میں موجود افراد نے انہیں لاتوں، گھونسوں اور رائفل کے بٹ سے مارا، جس سے ان کے سر پر چوٹ آئی اور وہ لہولہان ہوگئے۔ ان کے مطابق بعد میں انہیں ہوٹل کے اندر لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر دوبارہ تشدد کیا گیا۔

آن لائن ٹیکسی کے ڈرائیور نے بھی پولیس کو دیے گئے بیان میں تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گاڑی میں سوار افراد اور گارڈز نے پروفیسر عارف ساقی سے بدسلوکی کے بعد انہیں مارا۔ واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز موقع پر پہنچے اور پروفیسر کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

سچل پولیس کے مطابق پروفیسر عارف ساقی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامزد افراد کی گرفتاری اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US