سائنسدانوں نے برطانیہ کے علاقے یارکشائر میں موجود 4 ہزار سال پرانے تین دیوہیکل پتھروں کے معمہ حل کرلیا جنہیں ’شیطانی تیر‘ کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر پتھر کا وزن 25 ٹن سے زائد اور بلندی تقریباً 23 فٹ ہے۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پتھر تقریباً 18 کلومیٹر دور برمہم راکس سے لا کر بورو برج کے قریب نصب کیے گئے تھے۔
محققین نے پتھروں سے حاصل کیے گئے انتہائی چھوٹے معدنی ذرات کی آئسوٹوپک جانچ کی اور انہیں قریبی چٹانی ساختوں سے ملایا جس سے ان کے اصل مقام کی تصدیق ہوئی۔
تحقیق کے مطابق ہزاروں سال قبل ان بھاری پتھروں کو منتقل کرنے کے لیے غیر معمولی منصوبہ بندی، باہمی تعاون اور انجینئرنگ کی مہارت درکار رہی ہوگی تاہم ماہرین اب تک یہ معلوم نہیں کرسکے کہ انہیں منتقل کرنے کا طریقہ کیا تھا۔
سائنسدانوں نے ایک اور معمہ بھی حل کرلیا۔ تاریخی ریکارڈ میں موجود چوتھے گمشدہ پتھر کے بارے میں معدنیاتی جانچ سے تصدیق ہوئی کہ اس کا ایک حصہ قریبی علاقے الڈبورو میں قرونِ وسطیٰ کے دور میں تعمیر کیے گئے بیٹل کراس میں دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔