سائنس دانوں نے مینڈک کی ایک نایاب نئی نسل دریافت کی ہے جو تقریباً 100 سال تک سائنسی نظروں سے اوجھل رہی۔ حیران کن طور پر اس نسل کے نمونے کئی دہائیوں سے میوزیم کے قدرتی تاریخ کے ذخیرے میں موجود تھے، تاہم انہیں دوسری معلوم اقسام کا حصہ سمجھا جاتا رہا۔
ماہرین حیاتیات اور ٹیکسانومی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے پرانے میوزیم نمونوں کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا۔ سائنس دانوں نے جدید جینیاتی سیکوینسنگ کے ساتھ مینڈک کی جسمانی ساخت اور ظاہری خصوصیات کا بھی تجزیہ کیا، جس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہ پہلے سے شناخت شدہ علاقائی انواع سے مختلف ہے۔
سائنسی تحقیق کے بعد اس نئی نسل کو ’ملپے روبَر فراگ‘ کا نام دیا گیا، جبکہ اس کی باضابطہ تفصیل بین الاقوامی سائنسی جریدے ZooKeys میں شائع کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ملپے روبَر فراگ زیادہ تر رات کے وقت سرگرم رہتا ہے۔ اس کے نر عام طور پر جنگلات میں زمین سے کئی میٹر بلندی پر موجود جھاڑیوں اور برومیلیڈ پودوں کے پتوں پر بیٹھ کر آوازیں نکالتے ہیں۔
اس مینڈک کی آواز بھی منفرد بتائی جاتی ہے، جو نسبتاً بلند ہوتی ہے اور کسی حد تک کلک جیسی آواز محسوس ہوتی ہے۔ یہی مخصوص خصوصیات بھی اس کی شناخت میں مددگار ثابت ہوئیں۔
تحقیق میں اس نسل کے نر اور مادہ کے درمیان ظاہری فرق بھی سامنے آیا ہے۔ مادہ مینڈک کی رانوں اور جسم کے نچلے حصے کے قریب سیاہ دھبوں کے ساتھ نارنجی یا ہلکے نیلے رنگ کے نشانات ہوسکتے ہیں، جبکہ نر کی رنگت نسبتاً یکساں ہوتی ہے۔
یہ نئی نسل ایکواڈور اور کولمبیا کے جنگلات میں پائی جاتی ہے۔ یہ خطہ دنیا کے اہم حیاتیاتی تنوع والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں پودوں اور جانوروں کی متعدد نایاب اقسام موجود ہیں۔
سائنس دانوں کے لیے اس دریافت کی اہم بات صرف یہ نہیں کہ ایک نئی نسل کی شناخت ہوئی، بلکہ بعد میں کیے گئے فیلڈ سروے کے دوران اس مینڈک کی زندہ آبادیوں کی بھی تصدیق کی گئی۔
یعنی یہ نسل محض پرانے میوزیم نمونوں تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اپنے قدرتی ماحول میں موجود ہے اور طویل عرصے سے خاموشی کے ساتھ جنگلات میں زندگی گزار رہی ہے۔
ماہرین تحفظِ ماحولیات کے مطابق اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے ایسے علاقوں میں بھی کئی جانداروں کی ایسی اقسام موجود ہوسکتی ہیں جنہیں ابھی تک الگ نسل کے طور پر شناخت نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی جاندار کی درست سائنسی شناخت اس کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ کسی مخصوص نوع کی شناخت کے بغیر اس کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور قدرتی مسکن کے تحفظ کی حکمت عملی بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔
ملپے روبَر فراگ کی دریافت اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ میوزیم میں محفوظ کئی دہائیوں پرانے نمونے بھی جدید ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق کے ذریعے سائنس کے لیے نئی معلومات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔