حامد میر کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں اس خاتون کو بی اے پاس ظاہر کرکے سندھ کے محکمہ تعلیم میں بطور پرائمری ٹیچر بھرتی کیا گیا حالانکہ حقیقت میں وہ انڈر میٹرک ہے اور اسے اپنی اس مبینہ سرکاری ملازمت کا علم ہی نہیں تھا۔ اس کے نام پر جاری ہونے والی تنخواہیں بھی دوسرے لوگ وصول کرتے رہے جبکہ اس کی شناخت استعمال کرکے بینک سے لاکھوں روپے کا قرض بھی لیا گیا جو واپس نہیں کیا گیا۔ اب محکمہ جاتی کارروائی اور قرض کی عدم ادائیگی کے باعث پولیس اس خاتون کو تلاش کر رہی ہے حالانکہ وہ خود اس پورے معاملے سے لاعلم ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ میرے مطابق یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ سندھ کے مختلف سرکاری محکموں اور بینکنگ نظام میں موجود عناصر کی ملی بھگت سے ہونے والے ایک بڑے فراڈ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سندھ میں سرکاری ملازمت کے نام پر سامنے آنے والے اس حیران کن معاملے نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ایک ایسی خاتون، جس کی تعلیم انڈر میٹرک بتائی جا رہی ہے، سرکاری ریکارڈ میں گریجویٹ بنا دی گئی اور اس کے نام پر محکمہ تعلیم میں پرائمری ٹیچر کی ملازمت بھی ظاہر کردی گئی۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب مبینہ طور پر خاتون کے نام پر ملنے والی ماہانہ تنخواہیں بھی دوسرے افراد وصول کرتے رہے۔ یہی نہیں، اس کی شناخت اور کاغذات کا استعمال کرتے ہوئے بینک سے لاکھوں روپے کا قرض حاصل کیا گیا اور رقم لے کر ملزمان غائب ہوگئے۔
حامد میر نے سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب قرض کی عدم ادائیگی اور محکمہ تعلیم کی تحقیقات کے نتیجے میں پولیس خاتون کو بھی تلاش کر رہی ہے۔ خاتون کا مؤقف ہے کہ اسے نہ تو کسی سرکاری ملازمت کا علم تھا اور نہ ہی اس کے نام پر ہونے والی مالی سرگرمیوں سے وہ واقف تھی۔
اس واقعے نے سرکاری بھرتیوں، تنخواہوں کی ادائیگی اور بینکوں سے قرض کے حصول کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر تحقیقات میں یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض جعلی بھرتی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں سرکاری ریکارڈ، شناختی دستاویزات اور بینکنگ نظام کے ممکنہ غلط استعمال کی بھی مکمل چھان بین ضروری ہوگی۔