ملیر کا جیالا اپنے ہی منتخب نمائندے رکن صوبائی اسمبلی راجا رزاق کی مبینہ عدم توجہی اور عوامی مسائل کے حل نہ ہونے کی شکایات لے کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر پہنچ گیا، جہاں اس نے اپنے مسائل اور علاقے کی صورتحال سے متعلق فریاد پیش کی۔
جیالے کی جانب سے مزارِ بے نظیر پر پہنچ کر شکایات سامنے لانے کے واقعے نے سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی کے اپنے کارکن ہی اپنے منتخب نمائندوں کے خلاف شکایات لے کر مزاروں کا رخ کرنے لگیں تو پھر عوامی مسائل کے حل اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
ملیر کے عوام کا کہنا ہے کہ ووٹ عوام دیتے ہیں اور اقتدار بھی عوام کے ووٹ سے ملتا ہے، تاہم اگر بنیادی مسائل حل نہ ہوں تو آخر کب تک عوام خاموش رہیں گے؟
سیاسی و عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا اپنے مسائل کے لیے آواز اٹھانے والے جیالے کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی، یا اس کی فریاد سننے کے بجائے اس کے لیے راستے ہی بند کر دیے جائیں گے؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو کی سیاست کا بنیادی محور عوام اور ان کے مسائل تھے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور محض سیاسی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔
جیالے کی مزارِ بے نظیر پر فریاد نے ملیر میں عوامی مسائل اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ عوام کے ووٹ سے ملنے والے اقتدار کا فائدہ آخر عوام تک کب پہنچے گا؟