پاکستان کرکٹ کی حالت پر وسیم اکرم شدید مایوس، بیٹنگ ٹیلنٹ پر سوال اٹھا دیا

image

پاکستان کے سابق عظیم کھلاڑی اور کپتان وسیم اکرم پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال سے شدید مایوس ہیں اور انہوں نے اس کا ذمہ دار گزشتہ کچھ سالوں کے دوران اعلیٰ معیار کے بلے باز سامنے نہ آنے کو قرار دیا ہے۔

جمعہ کے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ جب پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف ہوم اور اے سیریز میں شکست ہوئی تھی تو خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی، لیکن اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا، پی ایس ایل کو شروع ہوئے 10 سال ہو چکے ہیں، لیکن کیا پی ایس ایل نے ایک بھی بیٹر پیدا کیا؟ ہاں، ہم نے کچھ بولرز ضرور بنائے ہیں لیکن مجھے بتائیں کیا ہم نے کوئی قابلِ ذکر بیٹنگ ٹیلنٹ پیدا کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک کے 14 سالہ نوجوان جیسے کسی بیٹنگ ٹیلنٹ کو جنم دیا

وسیم اکرم نے کہا، "میرے خیال میں جب ہم اس 14 سالہ بچے جیسا بیٹنگ ٹیلنٹ پیدا کریں گے، تبھی ہمیں کرکٹ میں بہتری آتی دکھائی دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وائٹ بال فارمیٹ میں بہتر ہے بہت شاندار تو نہیں لیکن مقابلے کی حد تک ٹھیک ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں حالات واقعی خراب ہیں۔

وسیم اکرم نے واضح کیا کہ بورڈ چاہے کسی کو بھی کوچ بنا کر لے آئے، خواہ وہ خود ہوں یا گیری کرسٹن، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ کام انہی کھلاڑیوں کے گروپ کے ساتھ کرنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی سی بی نے ڈومیسٹک کا جو نظام بنایا ہے اس کو تین چار سال چلنے دیں۔ صبر اور پلاننگ کے علاوہ کوئی پلان نہیں ہے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ جیسے ہر پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے، وہ بھی ویسا ہی محسوس کرتے ہیں۔اگر ہم ریڈ بال کرکٹ میں بہتری چاہتے ہیں تو کلب کرکٹ کو بحال کرنا ہوگا۔ پی سی بی کراچی اور لاہور میں 10، 10 کروڑ روپے لگائے، کیونکہ ٹیلنٹ کلب کرکٹ سے ہی آنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم میں تسلسل ہونا چاہیے، لیکن کھلاڑی وہی ہیں وہی آتے جاتے رہتے ہیں۔انگلینڈ میں جاری سیریز میں وہ اپنا فرنٹ فٹ آگے نہیں نکال رہے تھے اور اولی رابنسن جیسے بولرز کو کریز میں کھڑے ہو کر کھیل رہے تھے۔ تگڑے ہو کر اور ہمت کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے، لیکن اس کے لیے ٹیلنٹ ہونا ضروری ہے۔

بولرز کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق ریکارڈ ساز فاسٹ بولر نے کہا کہ ایک بال 150 کی اسپیڈ سے کرنا کوئی بڑی بات نہیں، پورا دن 140 کی اسپیڈ سے بولنگ کرنا کمال ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ان نوجوان فاسٹ بولرز کو دیکھ کر پُرجوش نہ ہوں، پہلے انہیں کھیلنے دیں، پھر کوئی رائے قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شاہین آفریدی ایک تجربہ کار بولر ہیں، اور مزید کہا کہ اگرچہ وہ نہیں جانتے کہ ان کی اسپیڈ کیوں کم ہوئی ہے، لیکن ان جیسے تجربہ کار بولر کو انگلینڈ جانا چاہیے تھا۔اگر یہ فیصلہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں عاکف جاوید کو ٹیم میں شامل کرنے کا کہتا، کیونکہ انہوں نے حال ہی میں انگلینڈ میں اچھی بولنگ کی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US