پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی فیول ریلیف اسکیم کے موجودہ طریقہ کار پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر عملی قرار دے دیا ہے۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت اس اسکیم پر عمل درآمد ڈیلرز کے لیے ممکن نہیں ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں جعلی آئی ڈیز کے ذریعے فراڈ کا خدشہ ہے اور اس صورت میں مالی نقصان کا تمام تر بوجھ ڈیلرز کو برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔
پی پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں پیٹرول پمپ پر 35 سے 50 موٹر سائیکلیں موجود ہوتی ہیں، ایسے میں ہر موٹر سائیکل کی انوائس چیک کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
انوائس کی چیکنگ کے باعث پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگیں گی، جس سے عوام کو طویل انتظار اور ڈیلرز کو شدید آپریشنل مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ رش کے دوران اگر 10 سے 15 صارفین بغیر پیٹرول لیے واپس چلے گئے تو اس سے ہونے والا مالی نقصان ڈیلرز کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ڈیلرز کو مکمل معلومات نہ ملنے سے عوامی شکایات اور انتظامی مسائل جنم لیں گے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے فیول ریلیف اسکیم کے طریقہ کار میں فوری اور مکمل تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو جتنا چاہے ریلیف دے، لیکن ڈیلرز کو براہ راست اس کارروائی کے درمیان نہ لایا جائے اور تمام تر ذمہ داری حکومت یا آئل کمپنیوں کے ذریعے پوری کی جائے۔
پی پی ڈی اے نے وفاقی وزیر پیٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیلرز کے ساتھ فوری ملاقات کریں تاکہ ان کی مشاورت سے ایک قابل عمل طریقہ کار طے کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں صورتحال کا جائز لینے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کے لیے پیٹرول ڈیلرز کا ہنگامی اجلاس آج شام طلب کرلیا گیا ہے۔