کیا نیتن یاہو اسرائیل میں انتخابات سے پہلے ایران پر دوبارہ حملہ کریں گے؟

اسرائیل میں 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف نے نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا وہ انتخابی ماحول تبدیل کرنے کے لیے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
نیتن یاہو
Getty Images

اسرائیل کے انتخابات میں اب صرف چند ہفتے باقی ہیں، لیکن رائے عامہ کے جائزے اب بھی یہ نہیں دکھا رہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو برقرار رہنے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود ہے۔

نیتن یاہو کئی دہائیوں سے اسرائیل میں اقتدار میں رہے ہیں اور متعدد بار سیاسی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر چکے ہیں۔

تاہم انتخابات سے پہلے وہ ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھنے کے بارے میں نیتن یاہو کے حالیہ بیانات نے اب یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایک نئی کشیدگی ان کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے تین ستمبر کو فوجی کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی حکومت کے خاتمے کو اپنے ملک کا ’مرکزی مشن‘ اور ایک ’قابلِ حصول‘ ہدف قرار دیا تھا۔

یہ ایسے وقت میں ہوا جب 14 ستمبر کو اسرائیل کے چینل 12 کے سروے میں نیتن یاہو کے کیمپ کو 50 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، جو پارلیمان میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہیں۔

27 کتوبر کے انتخابات تک اسرائیلی وزیراعظم کے پاس مقابلے کا ماحول تبدیل کرنے کی کوشش کا وقت موجود ہے، لیکن کیا ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ان کے ممکنہ آپشنز میں سے ایک ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ کی حمایت اور ووٹرز کا ردعمل ان کے لیے کیا حدود متعین کرے گا؟

بعض ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ نیتن یاہو اپنے سیاسی فائدے کے لیے کسی ایک محاذ پر کشیدگی بڑھا کر ہنگامی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں
Getty Images
بعض ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ نیتن یاہو اپنے سیاسی فائدے کے لیے کسی ایک محاذ پر کشیدگی بڑھا کر ہنگامی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں

انتخابات نیتن یاہو کے فیصلے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

نیتن یاہو کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ وہ جنگ کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈالیا شینڈلن سیاسیات کی محقق، رائے عامہ کی ماہر اور اسرائیل میں جمہوریت پر ایک کتاب کی مصنفہ ہیں۔

بی بی سی فارسی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’مخالف جماعتوں کے بہت سے حامیوں کو گمان ہے کہ نیتن یاہو انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے کہیں نہ کہیں کشیدگی میں اضافہ کریں گے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک امریکہ، خاص طور پر ٹرمپ ان کی حمایت نہ کریں، اس وقت تک نیتن یاہو کشیدگی کو مکمل جنگ تک نہیں لے جا سکیں گے۔

بعض ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ نیتن یاہو سیاسی مسابقت کی خاطر کسی ایک محاذ پر کشیدگی بڑھا کر ملک میں ہنگامی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔

ایسی صورتحال انتخابی مہم کی توجہ جنگ کی طرف منتقل کر سکتی ہے اور مخالفین کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ اپنا کچھ وقت فوجی کارروائیوں کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرنے میں صرف کریں۔

تاہم کسی نئی کارروائی کا جواز بڑی حد تک اس بات پر بھی منحصر ہو گا کہ ایران کی جانب سے باقی رہ جانے والے خطرے کا اندازہ کیا لگایا جاتا ہے۔

یہی نکتہ نیدرلینڈز کے کلنگنڈال انسٹی ٹیوٹ کے مشرق وسطیٰ پروگرام کے سربراہ اروِن فان فین اس طرح بیان کرتے ہیں: ’میری رائے میں لبنان میں حزب اللہ اور جنوب مشرقی شام میں ایران کے قائم کردہ فوجی ڈھانچے کے علاوہ اسرائیل کے لیے کوئی معقول سکیورٹی خطرہ موجود نہیں تھا۔ اب یہ خطرات بہت کم ہو چکے ہیں، لہٰذا 27 اکتوبر سے پہلے اسرائیل اگر ایران پر حملہ کرتا ہے، تو یہ کسی حد تک انتخابی حساب کتاب کا حصہ ہو گا۔‘

تاہم اپنی حالیہ گفتگو میں نیتن یاہو نے ایران پر حملے کا مقصد صرف اسے عسکری طور پر کمزور کرنا نہیں بتایا، بلکہ ایرانی حکومت کے خاتمے کو بھی اپنے اہداف میں شامل کیا ہے۔

یوں، اگر تہران کی فوجی صلاحیت کمزور کر بھی دی جاتی ہے، تو شاید یہ اسرائیلی فیصلہ سازوں کے نزدیک محاذ آرائی ختم کرنے کے لیے کافی نہ ہو۔

بیگن۔سادات سینٹر فار سٹریٹجک سٹڈیز کے ایک تجزیے میں ایران کے خلاف جنگ کی کامیابی کا معیار یہ ہو گا کہ اس کے لیے اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ بحال کرنے کی صلاحیت میں کتنی کمی آئی ہے۔

ان کے نقطۂ نظر کے مطابق عسکری دباؤ جاری رکھنا ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، چاہے اس کا وقت انتخابات کے قریب ہی کیوں نہ ہو۔

اسرائیلی یونیورسٹی میں سیاسی سماجیات اور عوامی پالیسی کے پروفیسر اور انسٹی ٹیوٹ فار ملٹری اینڈ سول ریلیشنز کے سربراہ یگیل لیوی اس حوالے سے بی بی سی فارسی کو بتاتے ہیں: ’نیتن یاہو کا رویہ جس گہری سٹریٹیجک سوچ سے جڑا ہوا ہے، اس کے بنیادی اجزا کو اسرائیل کا سیاسی مرکز اور خود فوج بھی قبول کرتی ہے۔

’اس لیے یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم نہ ہونے اور اسے دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت کے بارے میں ان کا مؤقف انتخابی مصلحتوں کا عکس ہے یا نہیں، کیونکہ یہ ایسے حالات سے مطابقت رکھتا ہے جو موجودہ انتخابات سے بہت پہلے بھی موجود تھے۔‘

ڈالیا شینڈلن کہتی ہیں کہ اگرچہ انھیں فوج اور موساد کی موجودہ قیادت کے خیالات کا براہ راست علم نہیں، لیکن جنگ کے بعد سامنے آنے والی تنقیدی آراء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’بہت سے موجودہ یا سابق فوجی عہدیدار سمجھتے ہیں کہ اس مقصد سے جنگ میں جانا کہ ایران کی حکومت گر جائے گی، یا ایران میں کسی نائب یا کٹھ پتلی سیاست دان کو اقتدار میں لایا جا سکتا ہے، ایک بہت ہی برا خیال تھا۔‘

نیتن یاہو اور ٹرمپ
AFP via Getty Images
نیتن یاہو جنگ میں توسیع کرتے ہیں تو امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی

کیا ٹرمپ کشیدگی میں اضافے کی حمایت کریں گے؟

ایسے وقت میں جب واشنگٹن اب بھی تہران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، اسرائیلی مدد کا استعمال اس کے آپشنز میں سے ایک ہو سکتا ہے، اگرچہ جنگ کا پھیلاؤ تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے لیے مزید پیچیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

اروِن فان فین کہتے ہیں کہ چونکہ امریکہ یہ جنگ جیت نہیں سکتا تو توقع ہے کہ وہ مدد کا خیرمقدم کرے گا۔ ’لیکن لگتا ہے کہ ایسی مدد پیش نہیں کی جا رہی اور اسرائیلیوں کے پاس اپنی وجوہات ہیں۔‘

اسی دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی میں امریکہ، اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے فوجی کمانڈروں کا ایک اجلاس ہوا ہے۔ سینٹکام کے مطابق اس اجلاس کا موضوع سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا تھا جبکہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی اور حوثیوں کا مقابلہ بھی زیر بحث آیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے 15 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں تقریباً 900 کلوگرام وزنی 40 ہزار بم شامل ہیں۔ اس منصوبے سے متعلق غیر رسمی طور پر کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم یہ سودا اب بھی تجویز کے ہی مرحلے میں ہے۔

اگرچہ یہ رپورٹس بذاتِ خود کسی چیز کو ثابت نہیں کرتیں، لیکن ان سے یہ قیاس آرائیاں بھی تقویت پاتی ہیں کہ دونوں فریق پس پردہ ایران کے خلاف نئی کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں سیاسیات کے پروفیسر اور اسرائیل سٹڈیز کے چیئر ہولڈر داوو واکسمن، جنگ کے پھیلاؤ میں ٹرمپ کی شمولیت کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’مجھے توقع نہیں کہ نیتن یاہو اسرائیلی انتخابات سے پہلے ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھائیں گے، کیونکہ اس سے ٹرمپ ناراض ہو سکتے ہیں، جو امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

’نیتن یاہو کے لیے ایران کو مشتعل کرنا بھی خطرناک ہو گا اگر اس کے نتیجے میں ایران اسرائیل پر حملہ کرے۔‘

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان سابقہ تنازعات نے ظاہر کیا ہے کہ ایک حملہ پورے مشرق وسطیٰ میں کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایران کا ردعمل اور خطے کے دوسرے ممالک تک حملوں کے پھیلنے کا امکان، اس جنگ کی وہ قیمت ہو سکتی ہے جس کا پہلے درست اندازہ نہ لگایا گیا ہو۔

لہذا ضروری نہیں کہ عسکری دباؤ میں اضافے سے مذاکرات میں امریکہ کی پوزیشن بہتر ہو۔ بہت سے تجزیہ کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی شرکت کے بغیر ایران پر اسرائیلی حملے کا امکان اب بھی کم ہے۔

اسرائیل کی بار ایلان یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر اور امریکہ۔اسرائیل تعلقات کے محقق جوناتھن رائن ہولڈ کہتے ہیں: ’میرے لیے امریکہ کی شرکت کے بغیر کسی بڑے اقدام کا تصور کرنا مشکل ہے۔ امریکہ کے بغیر اسرائیل حملہ کر تو سکتا ہے، لیکن اس کے جواز کے طور پر ایران کی جانب سے بہت بڑی اشتعال انگیزی درکار ہو گی۔‘

امریکی انتخابات قریب آنے کے ساتھ توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کا امکان بھی واشنگٹن کے لیے اس آپریشن کو جاری رکھنے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر تہران ردعمل میں تیل کی برآمدات یا علاقائی جہاز رانی کو نشانہ بنائے اور جنگ کے معاشی اثرات زیادہ براہ راست امریکی ووٹروں تک پہنچیں۔

شینڈلن کہتی ہیں: ’ٹرمپ نے بار ہا ایک فیصلہ کن امریکی فتح اور جنگ کے مکمل خاتمے تک پہنچنے کی کوشش کی اور ناکام رہے ہیں۔ وہ جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی معاہدے کے لیے امریکہ کی سودے بازی کی پوزیشن بہتر نہیں بنا سکے۔

’یہ جنگ ان کے لیے بہت مہنگی ثابت ہوئی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ امریکی انتخابات سے پہلے دوبارہ مکمل جنگ شروع کرنا چاہیں گے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ میں بہت غیر مقبول ہو چکی ہے۔‘

اسرائیلی یہ دیکھ چکے ہیں حالیہ دو جنگیں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکیں
AFP via Getty Images
اسرائیلی یہ دیکھ چکے ہیں حالیہ دو جنگیں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکیں

جنگ کا ووٹروں پر کیا اثر پڑتا ہے؟

اروِن فان فین سروے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ سیاسی اشرافیہ اور عوامی رائے دونوں میں مقبول ہے، اور منفی ردعمل کا زیادہ امکان اسی صورت میں ہے جب شہری آبادی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچے۔ تاہم مارچ میں روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کی وسیع حمایت کے باوجود نیتن یاہو کی انتخابی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی تھی۔ لہٰذا کسی فوجی کارروائی سے اطمینان یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ووٹرز نے حکومت کے بارے میں اپنی مجموعی رائے بدل لی ہے۔

شینڈلن اسی تجربے کی بنیاد پر مخالف ووٹرز کے رجحان میں تبدیلی کے امکان کو محدود سمجھتی ہیں۔ ان کے خیال میں نیتن یاہو جنگ شروع بھی کرتے ہیں تو اسے سیاسی قبولیت نہیں ملے گی۔

ایسے انتخابی نظام میں جہاں حکومت سازی کئی جماعتوں کے اتحاد پر منحصر ہوتی ہے، سرویز میں نیتن یاہو کے مخالفین کی برتری بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ متبادل حکومت بنانے پر متفق ہو جائیں گے۔ شینڈلن یاد دلاتی ہیں: ’اکثریت مسلسل کہتی ہے کہ وہ ایسی جماعتوں کو ووٹ دے گی جو نیتن یاہو کی حمایت نہیں کرتیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اگلا انتخاب جیت سکتی ہیں، کیونکہ انھیں اتحاد بھی بنانا ہو گا۔‘

اس صورتحال نے اسرائیلی عوامی رائے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف وہ غالباً ایران کو اب بھی اپنے ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، لیکن دوسری طرف انھوں نے دیکھا ہے کہ حالیہ دو جنگوں میں اس دشمن کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔

بلکہ صورت حال ممکنہ طور پر مزید خراب بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ اب ایران کے جوہری پروگرام پر کم بات ہوتی ہے اور تمام توجہ خلیج فارس میں ایک ایسی آبی گزر گاہ کو کھولنے پر مرکوز ہے جو گذشتہ سال کی سردیوں میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کھلی ہوئی تھی۔

مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے ہیں
Getty Images
نیتن یاہو نے ایران کے معاملے میں بار ہا دکھایا ہے کہ وہ ایسے فیصلے بھی کر سکتے ہیں جنھیں عوامی رائے اور مبصرین زیادہ ممکن نہیں سمجھتے تھے

حریفوں اور فوج کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے؟

اسرائیل میں فیصلہ سازی اور فوجی کارروائیوں کو متاثر کرنے والے اہم عوامل میں فوجی، انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے مختلف دھڑے بھی شامل ہیں۔ ایران سے مقابلہ کرنا شاید ان چند موضوعات میں سے ایک ہے جن پر اسرائیل کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اصولی اختلاف نہیں پایا جاتا، اگرچہ حکمت عملی کے بارے میں مختلف آراء موجود ہو سکتی ہیں۔

فان فین کے مطابق نیتن یاہو کے حریف بھی اصولی طور پر جنگ کے حامی ہیں، اگرچہ جنگ کے طریقے پر ان کے اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان اختلاف ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نیتن یاہو کے بعض مخالفین ان پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف زیادہ آگے نہیں گئے۔

رائن ہولڈ اس مسئلے کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کوئی اشتعال انگیز قدم اٹھاتا ہے اور اسرائیلی دفاعی ادارے ایران پر حملے کی حمایت کرتے ہیں تو نیتن یاہو کے مخالفین بھی ممکنہ طور پر اس کی حمایت کریں گے۔

رائن ہولڈ کہتے ہیں: ’نیتن یاہو غالباً صرف اسی وقت سیاسی مقاصد کے لیے کشیدگی بڑھائیں گے جب پہلے سے کافی سکیورٹی جواز موجود ہو تاکہ ان کا اقدام کھلے عام سیاسی نہ لگے۔‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر فوج بھی کارروائی کی ضرورت پر اختلاف کرے تو حکومتی فیصلے کو چیلنج کرنا آسان ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں مخالفین فوجی جائزوں کا حوالہ دے سکیں گے اور ان کی تنقید محض انتخابی مقابلے کا حصہ محسوس نہیں ہو گی۔

لیوی کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد حکومت کی تبدیلی کے امکان کے پیش نظر فوج احتیاط برتنا چاہے گی تاکہ اس پر نیتن یاہو کے سیاسی مفادات کی خدمت کا الزام نہ لگے۔ اس لحاظ سے کمانڈروں کا طرزِ عمل بھی ووٹنگ سے پہلے کے سیاسی ماحول سے متاثر ہو سکتا ہے۔

رائن ہولڈ ایک حقیقی بحران کے سیاسی استعمال کے حوالے سے ایک اور امکان بیان کرتے ہیں: ’تشویش اس صورتحال کے بارے میں ہے جہاں کوئی حقیقی سکیورٹی مسئلہ موجود ہو اور پھر نیتن یاہو اسے انتخابات مؤخر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیں۔ مجھے یہ تصور قابلِ یقین نہیں لگتا کہ وہ خود ایسی صورتحال پیدا کریں گے۔‘

البتہ اس امکان کا یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم یکطرفہ طور پر ووٹنگ مؤخر کر سکتے ہیں۔ پارلیمان کی مدت کو مقررہ قانونی حد سے آگے بڑھانے کے لیے غیر معمولی حالات اور کم از کم 80 ارکان کی حمایت سے قانون سازی درکار ہوتی ہے۔

واکسمن کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی کے بجائے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ حزب اللہ یا حماس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو، جبکہ شینڈلن مغربی کنارے اور دیگر محاذوں پر تناؤ بڑھنے کے امکان کا ذکر کرتی ہیں۔ ان کے جائزے کے مطابق اگر نیتن یاہو انتخابی ماحول بدلنے کی کوشش کریں تو وہ ایسے محاذ پر ہو سکتا ہے جہاں واشنگٹن کی حمایت پر کم انحصار ہو۔

اگر نیتن یاہو انتخابات کا ماحول بدلنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی نئی کشیدگی پر انحصار کریں، تو انھیں تہران کے ممکنہ ردعمل کو بھی اپنے حساب میں شامل کرنا ہو گا۔ وہ ووٹرز جو ان کی سکیورٹی کارکردگی کا فیصلہ کرنے والے ہیں، ممکن ہے انتخابات سے پہلے کے ہفتے دوبارہ پناہ گاہوں میں گزاریں۔

اس کے باوجود نیتن یاہو نے خاص طور پر ایران کے معاملے میں بار ہا دکھایا ہے کہ وہ ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جنھیں عوام اور مبصرین زیادہ ممکن نہیں سمجھتے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US