کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے اسکاچ برائٹ کی تشہیر میں کولگیٹ پامولیو پاکستان کی مصنوعات میکس اسکرب کے ساتھ جھوٹا اور گمراہ کن تقابل کرنے پر تھری ایم پاکستان پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
ترجمان کمپٹیشن کمیشن کے مطابق کارروائی کا آغاز کولگیٹ پامولیو پاکستان کی شکایت پر کیا گیا۔ شکایت کے مطابق اسکاچ برائٹ کی تشہیری مہم کے دوران دکھائی گئی ایک ویڈیو میں اسکاچ برائٹ اور میکس اسکرب کو 20 منٹ تک دھونے کے بعد میکس اسکرب کو نمایاں طور پر خراب جبکہ اسکاچ برائٹ کو نسبتاً بہتر حالت میں دکھایا گیا۔
انکوائری کے بعد سی سی پی نے تھری ایم پاکستان کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔ کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مظاہرہ ایک ملازم نے ذاتی حیثیت میں کمپنی کی اجازت کے بغیر کیا تھا۔ تاہم کمیشن نے قرار دیا کہ کمپنی کے اُس وقت کے علاقائی فروخت منیجر نے انکوائری کمیٹی کے سامنے یہ تقابل کرنے کا اعتراف کیا تھا اور یہ عمل ان کی سرکاری ذمہ داریوں اور کمپنی کی تشہیری مہم سے منسلک تھا۔
کمیشن نے قرار دیا کہ ایک جیسی نوعیت کی مصنوعات کا کسی معقول بنیاد یا قابلِ قبول شواہد کے بغیر تقابل جھوٹی یا گمراہ کن تشہیر کے زمرے میں آ سکتا ہے۔کمیشن کے مطابق تھری ایم پاکستان اس تقابل کے حق میں قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔ شکایت کنندہ کی پیش کردہ ایک آزاد تجربہ گاہ کی رپورٹ میں بھی دونوں مصنوعات کو یکساں معیار کا قرار دیا گیا، جسے تھری ایم پاکستان کارروائی کے دوران رد نہ کر سکی۔
کمیشن نے کمپنی کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ مذکورہ مظاہرہ براہِ راست صارفین کے بجائے کاروباری شراکت داروں کو دکھایا گیا تھا، اس لیے اسے اشتہار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمیشن کے مطابق یہ شراکت دار اسکاچ برائٹ کی تشہیر اور فروخت بڑھانے کے لیے کام کر رہے تھے۔
سی سی پی نے اس عمل کو کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تھری ایم پاکستان پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپنی کو آئندہ ایسی گمراہ کن تشہیر سے باز رہنے اور 60 دن کے اندر جرمانے کی ادائیگی کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں 50 ہزار روپے یومیہ اضافی جرمانہ عائد ہوگا۔