سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں مالیاتی رسائی میں وسعت کے لیے مائیکرو فنانس اور ہاؤسنگ قرضوں کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر 50 لاکھ روپے (5 ملین روپے) کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق متعلقہ قوانین و ضوابط میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ تمام شراکت داروں (اسٹیک ہولڈرز) کی مشاورت کے لیے باضابطہ طور پر جاری کردیا گیا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے تحت مائیکرو فنانس قرض حاصل کرنے کے اہل افراد کی سالانہ آمدن کی حد بھی 12 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں چھوٹے کاروباروں (Small Enterprises) کے لیے سالانہ ٹرن اوور کی زیادہ سے زیادہ حد کو 15 کروڑ روپے سے بڑھا کر 40 کروڑ روپے جبکہ درمیانے درجے کے کاروباروں (Medium Enterprises) کے لیے یہ حد 80 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2 ارب روپے تک کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ایس ای سی پی کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ایس ایم ای (SME) کے شعبے کی نئی مجوزہ حدود اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی پالیسی اور تبدیلیوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔