غربت کا خاتمہ صرف قرض سے ممکن نہیں، ہنر، رہائش اور خواتین کی معاشی شمولیت لازمی ہے، مراد علی شاہ

image

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 10ویں مائیکرو فنانس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالیاتی شمولیت کا مقصد صرف بینک اکاؤنٹس کھولنا نہیں بلکہ مالیاتی خدمات کے معیار اور صارفین کی حقیقی ضروریات پر توجہ دینا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی ایک ادارہ تنہا غربت کا مسئلہ حل نہیں کرسکتا، اس کے لیے حکومت، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان حقیقی ہم آہنگی اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے صرف قرض کی فراہمی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہنر، کاروباری معاونت اور رہائش بھی درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2009 میں دو اضلاع سے شروع ہونے والا پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام اب سندھ کے دیہی علاقوں کے بڑے حصے تک پھیل چکا ہے، جس کے تحت کمیونٹی تنظیموں کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد گھرانوں کو منظم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کی تقریباً 50 ملین یورو کی مالی معاونت سے جاری 'پائیدار' پروگرام کے تحت پانچ اضلاع میں کاروباری ترقی اور مالیاتی رسائی کے مواقع بڑھائے جا رہے ہیں، جس سے سیکڑوں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباری ادارے مستفید ہوچکے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ماؤں اور بچوں پر سرمایہ کاری کو غربت میں کمی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ صوبے میں 8 لاکھ 85 ہزار بچوں کے نگہداشت کنندگان کو سہ ماہی نقد معاونت دی جائے گی، جبکہ 'مامتا' زچہ و بچہ صحت پروگرام کا دائرہ کار 22 اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ موسمیاتی لحاظ سے مضبوط گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت 5 لاکھ سے زائد گھر مکمل ہو چکے ہیں اور 12 لاکھ 50 ہزار گھر زیرِ تعمیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب متاثرین کے زمین کے کاغذات اور بینک اکاؤنٹس خواتین کے نام پر رجسٹر کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی معاشی شمولیت کو تقویت ملے۔ اس کے علاوہ ٹھٹو، سجاول اور بدین کے 1 لاکھ 96 ہزار گھرانوں کو فائد پہنچانے کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی لاگت سے سندھ کوسٹل ریزیلینس پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے، جس میں مینگرووز کی بحالی، نکاسی آب اور نوجوانوں کی ہنرمندی کے منصوبے شامل ہیں۔

کاروباری شعبے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں، بالخصوص خواتین کی ملکیت والے اداروں کو ترجیحی معاونت دی جا رہی ہے۔ کاروباری افراد کی سہولت کے لیے کلفٹن میں ون ونڈو بزنس فسیلی ٹیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے جہاں لائسنسنگ اور مالی معاونت ایک ہی چھت تلے فراہم کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں کے لیے مالیاتی مصنوعات صارفین پر مسلط کرنے کے بجائے ڈیزائن تھنکنگ اور انوویشن لیبز کے ذریعے خود ان لوگوں کے ساتھ مل کر تیار کی جانی چاہئیں جو انہیں استعمال کریں گے۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ یہاں سے عملی عہد لے کر جائیں تاکہ ہر شہری کو باعزت روزگار اور پائیدار ذریعۂ معاش مل سکے۔ آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے پی ایم این، یورپی یونین، UNIDO، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے کردار اور خدمات کا شکریہ ادا کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US