راولپنڈی کے علاقے خیابان سرسید، ڈھوک نجو میں 12 سالہ لڑکی کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک روز قبل لاپتہ ہونے والی بچی کی لاش گھر کے قریب واقع ایک مکان سے ملی جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔
پولیس کے مطابق لڑکی گزشتہ روز مدرسے جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں پہنچی۔ اہل خانہ نے تلاش کے باوجود کوئی سراغ نہ ملنے پر تھانہ پیرودھائی میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ اگلے روز اس کی لاش قریبی مکان سے برآمد ہوئی جسے ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے مقدمے میں نامزد مشتبہ شخص کی شناخت ممریز کے نام سے کی ہے جو مقتولہ کا خالو بتایا جاتا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرلیے ہیں، جبکہ مبینہ زیادتی اور موت کی اصل وجہ کا تعین طبی و فرانزک رپورٹس کی روشنی میں کیا جائے گا۔
مقتولہ کے والد نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ ان کی بیٹی گزشتہ روز دوپہر 2 بجے سے لاپتہ تھی اور اگلے دن اس کی لاش ان کے ہم زلف کے گھر سے ملی۔ واقعے کے بعد خاندان شدید صدمے سے دوچار ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی چھان بین جاری ہے، تاہم ملزم کی گرفتاری سے متعلق فراہم کردہ اطلاعات میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تفتیش مکمل ہونے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد واقعے کی مزید تفصیلات واضح ہونے کی توقع ہے۔