اسلام آباد میں تھانہ رمنا کے علاقے جی ٹین مرکز میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی لاش اتوار بازار کے قریب ٹریفک پولیس کی پرانی چوکی کے ساتھ گرین بیلٹ سے ملی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ابتدائی اطلاعات میں مبینہ خودکشی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق لائبہ اعجاز دختر محمد اعجاز کی عمر تقریباً 20 سے 22 سال تھی اور وہ گلستان پلازہ، فلیٹ نمبر 8، جی ٹین مرکز کی رہائشی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبہ آج دوپہر تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھیں جس کے بعد اہل خانہ کی جانب سے تلاش کے دوران ان کی لوکیشن مذکورہ مقام پر موصول ہوئی۔
ابتدائی اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبہ نے امریکا بھجوانے کے لیے نعمان نامی ایجنٹ کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی نکلنے کے باعث طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ تاہم رقم کی ادائیگی، دستاویزات کی نوعیت اور واقعے کے محرکات کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس ایچ او تھانہ رمنا، ہومی سائیڈ یونٹ اور دیگر سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ موت کی اصل وجہ اور مبینہ فراڈ کے معاملے کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔