"میرے اتنے بچے ہیں کہ بعض اوقات ان کے نام بھی بھول جاتا ہوں، اس لیے زیادہ تر کو بیٹا کہہ کر بلاتا ہوں۔ ہر رات سونے سے پہلے سب کی گنتی کرتا ہوں تاکہ کوئی بچہ گھر سے باہر نہ رہ جائے۔ ایک مرتبہ بیٹی کے نکاح کے دوران مولوی صاحب نے نام پوچھا تو غلطی سے دوسری بیٹی کا نام بتا دیا۔ میری بس دو خواہشیں ہیں، میرے بچے تعلیم حاصل کریں اور انہیں کبھی بھوکا نہ سونا پڑے۔"
یہ کہانی افغانستان کے صوبہ ارزگان سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ محمد صادق کی ہے، جن کی چار بیویوں سے 58 بچے ہیں، جبکہ سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اتنے بڑے خاندان میں بچوں کے نام یاد رکھنا بھی ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک رات گنتی کے دوران ایک بچہ کم نکلا تو انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ بیٹا ہے یا بیٹی۔ بعد میں پتا چلا کہ اس کی والدہ اسے نانی کے گھر بھیج چکی تھیں۔
لیکن اس غیر معمولی خاندان کی زندگی صرف دلچسپ واقعات تک محدود نہیں۔ مالی حالات اس قدر خراب ہیں کہ کئی بچے خالی پیٹ سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پورے گھر میں دن میں صرف دو مرتبہ کھانا پکتا ہے، جبکہ سردیوں میں چھ سے سات افراد ایک ہی پتلا کمبل استعمال کرتے ہیں۔ گھر میں مناسب دروازوں، کھڑکیوں اور صفائی کی بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔
گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محمد صادق کے بعض کم عمر بچے بھی محنت مزدوری کرتے ہیں اور کاغذ، پلاسٹک سمیت دوسری اشیا جمع کرکے خاندان کی مدد کرتے ہیں۔ ان مشکلات کے ساتھ یہ خاندان ایک بڑا دکھ بھی سہہ چکا ہے، کیونکہ محمد صادق کے 14 بچے مختلف اوقات میں انتقال کر چکے ہیں۔
اتنی بڑی ذمہ داریوں اور مسلسل پریشانیوں کے باوجود محمد صادق کی سب سے بڑی فکر اپنے بچوں کا مستقبل ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد تعلیم حاصل کرے، بہتر زندگی گزارے اور اسے کبھی بھوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔