بائیڈن انتظامیہ داخلی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے پُر عزم

ویب ڈیسک — امریکہ کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلے جانے کے خدشے پر صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس معاملے پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مقامی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اب تک مناسب اقدامات اٹھائے گئے ہیں یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے جمعے کو رواں ماہ چھ جنوری کو پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ملک کی سمت تبدیل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ اس دن ہونے والی افسوس ناک ہلاکتوں اور توڑ پھوڑ نے مقامی طور پر ہونے والی انتہا پسندی کی وجہ سے درپیش خطرات سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کو اس سلسلے میں اولین اقدامات قرار دیا۔

جین ساکی کا مزید کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ اس خطرے کا سامنا درکار وسائل کے ساتھ کرے گی تا کہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

صدر بائیڈن نے اسی سلسلے میں قومی انٹیلی جنس کے اداروں کو امریکی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' اور 'ہوم لینڈ سیکیورٹی' کے ساتھ مل کر درپیش خطرات سے متعلق رپورٹ بنانے کا حکم دیا ہے۔

ان رپورٹس میں حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ نجی محقین کی رائے بھی شامل ہوگی۔

Direct link240p | 6.7MB360p | 11.0MB480p | 20.1MB720p | 36.6MB1080p | 61.0MBوائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا اس کے متعلق مزید کہنا تھا کہ ان کا ہدف حقائق پر مبنی معلومات کا حصول ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا عزم ہے کہ وہ حقائق اور تجزیے پر مبنی پالیسیاں بنائیں اور آئین میں دی گئی آزادی اظہار اور سیاسی سرگرمیوں کی حفاظت کریں۔

ساکی کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کی مقامی انتہا پسندی سے نمٹنے کی اہلیت کو حکومتی ایجنسیز کے درمیان معلومات کے تبادلے کے ذریعے مزید مستحکم کیا جائے۔

ان کے مطابق ایسے پروگرامز بنائے جائیں جو مقامی انتہا پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کریں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل اس سلسلے میں سوشل میڈیا کے کردار کو بھی دیکھے گی۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

69