نئی پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس کا اطلاق 16 جنوری تک موخر

image

ایف بی آر نے نئی پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس کا اطلاق 16 جنوری تک موخرکردیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق ملک بھر سے مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور ٹاؤن ڈویلپرز کی جانب سے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے بذریعہ آفس میمورینڈم ،  جائیداد کی قیمتوں میں بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے اور انہیں معقول کرنے کیلئے طریقہ کار پر تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں بھی کسی اسٹیک ہولڈر کی جانب سے اوور ویلیوایشن یا انڈرویلیوایشن  کی نشاندہی کی گئی ہو وہاں نوٹیفائیڈ ویلیوایشن ٹیبلز کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کےمطابق تمام چیف کمشنرزان لینڈ ریونیو ویلیوایشن کا جائزہ لینے والی کمیٹیاں تشکیل دیں گےاورانہیں 10 دسمبر 2021 تک نوٹیفائی کریں گے۔ کسی بھی اسٹیک ہولڈر کی جانب سے ویلیویشن کےبارے میں کوئی تحفظات ہیں تو وہ وہ 15 دسمبر2021 تک پیش کرسکتا ہے۔ چیف کمشنرز اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع مشاورتی عمل کا آغاز کریں گے اور قیمتوں کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک کے منظور شدہ نرح  شامل کریں گے جو حال ہی میں جاری کردہ ویلیو ایشنز سے زیادہ یا کم ہو سکتے ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق ایف بی آر کوغیرمنقولہ پراپرٹیز کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسی لیئے یکم دسمبر2021  کو  40 بڑے شہروں میں پراپرٹیزکواصل مارکیٹ ویلیو کےقریب ترکرنے کیلئے نئے ویلیوایشن ٹیبلزجاری کئےگئےتاہم مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جانب سے کچھ اعتراضات موصول ہوئے ہیں جو کہ نئے جاری کردہ ویلیوایشن ٹیبلز  میں بے ضابطگیوں اور نقائص کو واضح کرتے ہیں اورغلطی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا یا  انہیں  پتھر پر لکیر نہیں گردانا جا سکتا ۔

خامیاں دور کرنے کیلئے تمام سفارشات کو 15 جنوری 2022 کو دوبارہ نوٹیفائی کیا جائے گاجو کہ 16 جنوری 2022 کو نافذاالعمل ہوگا۔اس وقت تک یکم دسمبر کو جاری کردہ ایس آر او زیر التواء میں رکھا گیا ہے تاکہ جاری ٹرانزیکشنز کی رجسٹریشن کی اجازت دی جا سکے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.