کرپٹ حکمرانوں نے عوام کو اجتماعی طور پر غربت میں مبتلا کر دیا، وزیراعظم

image

 وزیراعظم کا کہنا ہےکہ دنیا میں کامیاب ریاستیں وہی ہیں جہاں قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک قومی نجی اردو روزنامہ اخبار کےلئے تحریر کیے گئے اپنے مضمون میں لکھا کہ رسالت مآب ﷺ نے واضح فرمادیا کہ کوئی قانون سے ماورا نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ معاشرے برباد ہو جاتے ہیں جن میں دو طرح کے قوانین ہوں:ایک امرا کے لیے اور دوسرا غربا کے لیے۔

آپ ﷺ کا فرما ن ہے :’’اے لوگو!پچھلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں کہ ان میں سے جب کوئی بڑے مرتبے والا آدمی چوری کر تا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کم تر مرتبے کا آدمی چوری کرتا تو اس پر سزا نافذ کردی جاتی۔

خدا کی قسم،اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تومیں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔‘‘(صحیح مسلم ۱۶۸۸)۔اگرکوئی معاصر دنیا پر ایک نظر ڈالے تو بآسانی دیکھ سکتا ہے کہ سب سے کامیاب ریاستیں وہی ہیں جہاں سختی کے ساتھ قانون کانفاذ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ مغربی اقوام کے علاوہ،ہم دیکھتے ہیں کہ مشرقی ایشیا کی ان اقوام میں بھی ، جوحال ہی میں خوش حال ہوئی ہیں‘اس اصول پر سختی سے عمل ہو تا ہے۔

عمران خان نے کہاکہ جاپان، چین اور جنوبی کوریا،اس کی چند مثالیں ہیں، وہ ممالک جہاں قانون کی حکمرانی کے اصول کو پامال کیا گیا،وہ غربت اور فساد میں ڈوبتے دیکھے گئے۔ بہت سے مسلم ممالک،وسائل کی فراوانی کے باجود،کم ترقی یافتہ ہیں۔

اس کی وجہ یہی قانون کے نفاذ کی کمی ہے۔اس کی ایک اور مثال جنوبی ایشیا ہے۔آج کے بھارت میں ،امتیازی قوانین کی حکمرانی ہے۔اس کا فوری نتیجہ غربت اور ان گنت علیحدگی کی تحریکیں ہیں جنہوں نے ریاست کی وحدت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

پاکستان میں بھی ،جب قانون کی حکمرنی کو نظر انداز کیا گیا تو اس کا نتیجہ قومی خزانے سےاربوں ڈالر کی لوٹ مار کی صورت میں سامنے آیا جس نے عوام کو اجتماعی طور پر غربت میں مبتلا کر دیا۔

انہوں نے اپنے مضمون نے لکھا کہ محدود وسائل کے باوجود،ہم نے ’احساس پروگرام ‘ جیسے ان اقدامات کے لیے اتنے وسائل مختص کیے ہیں جتنے پہلے کبھی نہیں کیے گئے۔

اس پروگرام کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا، یہ پروگرام سماج کے کمزور طبقات کے سماجی تحفظ اورغربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

یہ پروگرام ایک ایسی ریاست کے قیام کی طرف ہمارا بنیادی اقدامات میں سے ہے، جو اپنے شہریوں کی فلاح وبہبود کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ’صحت سہولت پروگرام‘،پاکستانی تاریخ کے نے ان عظیم منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے جو ہمارے شہریوں کے لیے یونیورسل ہیلتھ کی سہولت فراہم کرنے کا ضامن ہے۔

یہ منصوبہ غربت میں دھنسےان کمزور شہریوں کے تحفظ ہی کے لیے نہیں ہے جو علاج کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں بلکہ اس سے ملک بھر میں نجی ہسپتالوں کا ایک نیٹ ورک بھی وجود میں آئے گا۔

اس سےجہاں عوام کا بھلا ہوگا ،وہاں نجی کاروباری طبقے کا بھی فائدہ ہوگا جو صحت کے شعبے میں کام کرنا چاہتا ہے۔صرف پنجاب حکومت نے اس منصوبے کے لیے چار سو ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ صحت سہولت پروگرام سماجی فلاحی اصلاحات کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔یہ منصوبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کہ کم آمدن رکھنے والے طبقات کے لیے، سرعت ا ور باوقار کے ساتھ، علاج کی سہولت میسر ہو اور ان کےمعاشی بوجھ میں بھی اضافہ نہ ہو۔

انہوں نے لکھاکہ بعد از کورونا دور کی عالمگیر معاشی مشکلات کے باجود،ہم نے تعلیمی اصلاحات کو نظر انداز نہیں کیا۔

ہمارا احساس اسکالرشپ پروگرام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ غیرمراعات یافتہ اور غریب طبقے کے ہونہار طلب علموں کو اچھی تعلیم میسر آئےتاکہ اپنے معیارِ زندگی کوبہتر بنا نے کے لیے ،ان کے پاس وسیع ترامکانات ہوں۔

وزیراعظم نے مزید لکھا کہ ایسے افراد اور مافیا نظام سے خون چوسنے والی وہ جونکیں ہیں جو اس ملک کے ساتھ مخلص نہیں۔پاکستان کی حقیقی قوت ،وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے،ان کو شکست دینا ناگزیر ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.