روس کے ساتھ کھیل بند کریں اور جنگ رکوائیں: یوکرینی صدر کا مطالبہ

image
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ ’کھیلنا‘ بند کریں اور اس کی ’بےحسی سے عبارت’ جنگ رکوانے کے لیے مزید سخت پابندیاں عائد کریں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ولادیمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ ان کا ملک ہر صورت آزاد رہے گا، سوال صرف یہ ہے کہ اس آزادی کی قیمت کیا ہو گی۔

یوکرینی صدر کی جانب سے گزشتہ چند دنوں سے یورپی ممالک پر تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ممالک روسی تیل پر پابندیوں میں معاملے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ روسی افواج نے یوکرین کے مشرق میں واقع دو اہم شہروں سائیویروڈونٹسک اور لیسچانسک کا محاصرہ کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کو تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ روس نے شروع میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنایا اور اب وہ صنعتی اعتبار سے اہم مشرقی ڈونباس کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس 2014 سے اس علاقے میں سرگرم علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

یوکرین کے صدر دلادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو رات گئے اپنے خطاب میں کہا ’یوکرین ہمیشہ آزاد رہے گا۔ یہ ٹوٹ نہیں سکتا۔ اس وقت سوال صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہمارے لوگوں کو اپنی آزادی کی اور روس کو ہمارے خلاف اس کی بے حسی سے عبارت جنگ کی کتنی قیمت چکانی ہے۔‘

یوکرینی صدر نے روس کے خلاف پابندیوں کے معاملے یورپی ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ بعض ممالک (روس پر پابندیوں کے منصوبے) کو کیوں روکنا چاہتے ہیں۔

لاکھوں افراد یوکرین سے نقل مکانی کر کے دوسرے ممالک میں پناہ کی تلاش میں ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

واضح رہے کہ یورپین یونین کے ممالک کے درمیان روس پر تیل کی درآمد سمیت دیگر پابندیوں کے حوالے سے مشاورت کا چھٹا دور جاری ہے لیکن ابھی تک اس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ ہنگری نے اپنے مخصوص اقتصادی چیلنجز کو بنیاد بنا کر اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

ولادیمیر زیلنسکی نے سوال اٹھایا کہ ’اس منصوبے پر اتفاق رائے کے لیے یورپین یونین کو مزید کتنے ہفتے درکار ہیں؟‘

واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد یوکرین سے نقل مکانی کر کے دوسرے ممالک میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ اقوام متحدہ متعدد بار جنگ روکنے کی اپیل کر چکی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.