ٹیکساس: لاوارث لاری سے کم از کم 46 ’تارکین وطن‘ کی لاشیں برآمد

امریکی ریاست ٹیکساس میں سان انتونیو کے مضافات سے ایک لاوارث لاری میں کم از کم 46 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تارکینِ وطن تھے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق ایک درجن سے زائد افراد کو ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔
Image shows emergency responders at scene
Reuters

امریکی ریاست ٹیکساس میں سان انتونیو کے مضافات سے ایک لاوارث لاری میں کم از کم 46 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تارکینِ وطن تھے۔

ایک مقامی اخبار کے مطابق ایک درجن سے زائد افراد کو ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں ایک بڑے ٹرک کے اردگرد ہنگامی امداد فراہم کرنے والے افراد کی ایک قابل ذکر تعداد دکھائی دیتی ہے۔

کے ایس اے ٹی ٹی وی چینل کے مطابق یہ گاڑی سان انتونیو کے جنوب مغربی علاقے میں ریل کی پٹریوں کے قریب سے ملی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سان انتونیو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے افسران گاڑی کے ڈرائیور کو تلاش کر رہے تھے جو جائے وقوعہ سے غائب تھا۔

ٹیکساس میں واقع سان انتونیو کا علاقہ، امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے تقریباً 250 کلومیٹر (150 میل) کے فاصلے پر ہے۔

میکسیکو کے وزیر خارجہ مارسیلو ایبرارڈ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے سفارتی نمائندے اس مقام پر پہنچ رہے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرین کی قومیتیں ابھی تک نامعلوم ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان افراد کی موت کیسے ہوئی اور مقامی پولیس نے بھی ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ٹرمپ کی میکسیکو سرحد بند کرنے کی دھمکی

’غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا خاکہ تیار‘

امریکی پناہ گزیں کیمپوں کے بچے: ’ہر خیمے سے بچوں کے بلک بلک کر رونے کی آوازیں آتی تھیں‘

میکسیکو
Getty Images

ٹیکساس کے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ نے ہلاکتوں کا ذمہ دار امریکی صدر جو بائیڈن کو قرار دیتے ہوئے ان کی ’سرحدی پالیسیوں کا نتیجہ‘ قرار دیا ہے۔

ایبٹ کے خلاف انتخاب لڑنے والے ڈیموکریٹک امیدوار بیٹو او رورک نے ان رپورٹس کو تباہ کن قرار دیا ہے اور انھوں نے ’انسانی سمگلنگ کے گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی جگہ قانونی نقل مکانی کے لیے راستے کھولنے‘ کے ساتھ ساتھ فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

امیگریشن امریکہ میں ایک متنازعہ سیاسی مسئلہ ہے اور گذشتہ برس میکسیکو سے ملک میں داخل ہونے والے بنا دستاویزات والے تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے انتہائی خطرناک اور غیر محفوظ راستوں سے سفر کر رہے تھے۔

سان انتونیو کا موسم گرمیوں کے مہینوں میں خاصا گرم ہوتا ہے جہاں پیر کو درجہ حرارت 39.4 سنٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔

٭٭٭٭٭٭اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.