صدر پوتن نے دنیا میں گیس اور پیٹرول کے بڑے منصوبوں میں شمار ہونے والے ’ساخلین ٹو‘ کو سرکاری تحویل میں لے لیا

گزشتہ ہفتے کے آخر میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سخالین ٹو کو قومیانے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس سے جاپان خاص طور پر متاثر ہوتا ہے۔
Sakhalin-2
Getty Images
ساخلین ٹو کا شمار دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے منصوبوں میں ہوتا ہے

گزشتہ ہفتے کے آخر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سخالین-2کو قومیانے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس سے جاپان خاص طور پر متاثر ہوتا ہے۔

یوکرائن کی جنگ کے معاشی اثرات کے نتیجے میں کیے جانے والے روسی حکومت کے اس اقدام سے برطانوی کمپنی شیل اور جاپانی کمپنیاں میتسوئی اور مٹسوبشی کو اپنی سرمایہ کاری چھوڑنا پڑ سکتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تیل کی بڑی کمپنی شیل نے کہا ہے کہ 'ہم اس حکم نامے سے آگاہ ہیں اور اس کے مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔'

روسی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایک نئی کمپنی سخالین انرجی انویسٹمنٹ کے تمام حقوق اور ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔

شیل نے فروری میں کہا تھا کہ وہ یوکرین میں تنازع کی وجہ سے اپنی روسی سرمایہ کاری فروخت کر دے گی جس میں روس کے مشرق بعید کے علاقے میں سخالین-2 کی مرکزی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

برطانوی کمپنی شیل نے اس سال اپریل میں کہا تھا کہ روس سے نکلنے کا مطلب ہے کہ اسے 4.6 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

روسی تیل پر عالمی پابندیاں: کیا دنیا روس کے تیل اور گیس کے بغیر گزارا کر پائے گی؟

دو 'قدرتی ہتھیار' جو روس یورپی ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے

سربیا کا روس کے ساتھ گیس کی خریداری کا ’انتہائی فائدے مند‘ معاہدہ

موجودہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مارکیٹ کا تقریباً 4 فیصد فراہم کرنے والا یہ منصوبہ 50 فیصد گیزپروم کی ملکیت میں چلایا جاتا ہے۔

روسی حکم نامے کے مطابق گیزپروم اپنا حصہ برقرار رکھی گی لیکن دیگر شیئر ہولڈرز کو ایک ماہ کے اندر نئی کمپنی میں حصص کے لیے روسی حکومت کو درخواست دینی ہو گی۔

اس کے بعد حکومت فیصلہ کرے گی کہ آیا انہیں حصہ لینے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

دی ڈیلی ٹیلی گراف اور رائٹرز کی اطلاعات کے مطابق شیل اس منصوبے میں اپنے حصص کے ممکنہ خریداروں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے جن میں چین اور بھارت کے کچھ لوگ بھی شامل ہیں۔

فرم کے چیف ایگزیکٹو بین وان بیورڈن نے بدھ کے روز کہا کہ اس مشترکہ منصوبے سے نکلنے کے منصوبے پر 'اطمیان بخش پیش رفت'ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ ہم کس مرحلے پر ہیں کیونکہ یہ ایک کاروباری معاملہ ہے، لہذا مجھے رازداری کا احترام کرنا ہوگا لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ جب مجھے گزشتہ ہفتے تاز ترین اطلاعات موصول ہوئی تو میں اس بات سے بہت مطمئن تھا کہ ہم کہاں ہیں۔'

تھیو لیگیٹ کا جائزہ

بی بی سی کے نامہ نگار برائے کاروبار

ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک گہرا سیاسی اقدام ہے۔ امکان ہے کہ اس کا اثر جاپان میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جائے گا جو روس کے خلاف پابندیوں میں بہت پیش پیش رہا ہے۔

سخالین-2 میں تین غیر ملکی کمپنیوں کے اہم حصص ہیں: شیل، میتسوئی اور مٹسوبشی۔

لیکن شیل پہلے ہی اپنے روسی اثاثوں کی قیمت منسوخ کر چکی ہے اور روس سے نکل جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

دریں اثنا جاپان مائع قدرتی گیس کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

عالمی سطح پر گیس کے خریداروں کے درمیان مقابلہ اس وقت شدید ہے اور صرف سخالین منصوبہ اس وقت اس کی ضروریات کا تقریباً 8 فیصد پورا کرتا ہے۔

اس طرح روس کی جانب سے ممکنہ طور پر اس منصوبے میں جاپانی حصص کو قومیانے کے امکان سے ٹوکیو میں بے چینی پیدا ہونا قدرتی ہے۔ اگرچہ وزرا کا اصرار ہے کہ اس سے درآمدات فوری طور پر بند نہیں ہوں گی۔

اگر جاپان کو روسی سپلائی منقطع کر دی جاتی ہے تو اسے کہیں اور نئے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے جس سے دستیاب رسد کے لیے مسابقت میں اضافہ ہو گا۔

اس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت پہلے ہی افراط زر کو ہوا دے رہی ہے۔

جاپان کی جانب سے اقدامات

یوکرائن پر حملے کے بعد ماسکو پر مغربی پابندیوں کے درمیان پانچ صفحات پر مشتمل اس فرمان میں کہا گیا ہے کہ یہ کریملین پر منحصر ہے کہ آیا غیر ملکی شیئر ہولڈرز کو کنسورشیم میں رہنا چاہئے یا نہیں۔

جاپان پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ اگر اسے وہاں سے جانے کو کہا بھی جائے تو وہ سخالین-2 منصوبے میں اپنے مفادات سے دستبردار نہیں ہو گا جو اس کی توانائی کی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

جمعے کو نقصانات کے خدشات کے باعث میتسوئی اور مٹسوبشی کے حصص کی قیمتوں میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور وسیع تر نکی انڈیکس میں 1.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

مٹسوبیشی کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی سخالین انرجی اور جاپانی حکومت میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ اس بارے میں بات چیت جاری ہے کہ پیوٹن کے حکم نامے کا جواب کیسے دیا جائے۔

میتسوئی نے فوری طور پر بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا لیکن نکی ایشیا کو بتایا کہ وہ "حقائق کی تصدیق کے عمل میں ہیں"۔

Shell
Getty Images
سخالین-2 پروجیکٹ میں شیل کا 27.5 فیصد حصہ ہے۔

اس منصوبے میں میتسوئی کا 12.5 فیصد اور مٹسوبیشی کا 10 فیصد حصہ ہے جبکہ شیل ایک کم 27.5 فیصد حصص کی مالک ہے۔ روس کی بڑی گیس کمپنی گیزپروم کا 50 فیصد ہے اور اس کے علاوہ اس کو ایک فیصد اضافی حصہ حاصل ہے۔

شیل کے مطابق جاپان، جنوبی کوریا اور چین تیل اور ایل این جی کی برآمدات کے اہم گاہک ہیں۔

جاپان کے چیف ڈپٹی کابینہ سکریٹری سیجی کیہارا نے کہا کہ حکومت اس حکم نامے کے مواد کا جائزہ لے رہی ہے اور ماسکو کے ارادوں کا تجزیہ کر رہی ہے۔

انہوں نے باقاعدہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ عام طور پر وسائل میں ہمارے ملک کے مفادات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یہ کہنے سے انکار کر دیا کہ آیا جاپان اس معاملے پر ماسکو کے ساتھ رابطے میں ہے یا نہیں۔

جاپانی وزیر صنعت کوئیچی ہاگیوڈا نے کہا کہاس حکم نامے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جاپان کے لیے ایل این جی کی درآمد فوری طور پر ناممکن ہو جائے گی تاہم غیر متوقع حالات کی تیاری کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا ضروری ہے۔

گیس پر دباؤ

کریڈٹ سوئس میں انٹیگریٹڈ انرجی اینڈ ریسورس ریسرچ کے سربراہ ساؤل کاونک نے کہا کہ سخالین-2 جیسے منصوبوں میں روسی ایل این جی کی پیداوار وقت کے ساتھ متاثر ہونے کا امکان ہے کیونکہ غیر ملکی مہارت اور پرزے دستیاب نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے اس دہائی میں ایل این جی مارکیٹ کو مادی طور پر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ روسی حکومت کی شمولیت میں کسی بھی اضافے سے بہت سے خریداروں کے لیے ان منصوبوں کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاپان فوری طور پر متبادل فراہمی کے اختیارات کی تلاش میں ہے۔ روس نے تیل اور گیس کے ایک بڑے منصوبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس میں برطانوی کمپنی شیل کا 27.5 فیصد اور جاپان کی میتسوئی اور مٹسوبشی کا مزید 22.5 فیصد حصہ ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=MBiy00OlS1Q


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.