Latest 30 poetries by featured poets
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے "وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے"
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے وشمہ خان وشمہ
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے وشمہ خان وشمہ
"سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا" سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا
ہم پر یہ کسی خواب کا سایہ تو نہیں تھا
دن بھر کی تھکن روح پہ پتھر سی گری تھی
ورنہ ہمیں بستر نے بلایا تو نہیں تھا
ہر شخص بچھڑتے ہوئے خاموش کھڑا تھا
اس شہر میں رونے کا امادہ تو نہیں تھا
اک درد مسلسل تھا رگِ جاں میں اُترتا
یہ زخم کسی ایک کا بخشا تو نہیں تھا
ہم جس کو سمجھتے رہے اپنا ہی مقدر
وہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دنیا تو نہیں تھا
اب تلخئِ حالات نے ایسا ہمیں بدلا
پہلے کبھی لہجہ یہ کڑوا تو نہیں تھا
وشمہ یہ اندھیروں سے محبت بھی عجب ہے
دل ٹوٹ گیا ورنہ اجالا تو نہیں تھا وشمہ خان وشمہ
ہم پر یہ کسی خواب کا سایہ تو نہیں تھا
دن بھر کی تھکن روح پہ پتھر سی گری تھی
ورنہ ہمیں بستر نے بلایا تو نہیں تھا
ہر شخص بچھڑتے ہوئے خاموش کھڑا تھا
اس شہر میں رونے کا امادہ تو نہیں تھا
اک درد مسلسل تھا رگِ جاں میں اُترتا
یہ زخم کسی ایک کا بخشا تو نہیں تھا
ہم جس کو سمجھتے رہے اپنا ہی مقدر
وہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دنیا تو نہیں تھا
اب تلخئِ حالات نے ایسا ہمیں بدلا
پہلے کبھی لہجہ یہ کڑوا تو نہیں تھا
وشمہ یہ اندھیروں سے محبت بھی عجب ہے
دل ٹوٹ گیا ورنہ اجالا تو نہیں تھا وشمہ خان وشمہ
عشق ہے نہ جنون ہے عشق ہے نہ جنون ہے
اُس کا ساتھ میرے لئے
سراپائے سکون ہے
اُس کی آواز اُس کا لب و لہجہ
میری سماعت کو تسکین دیتا ہے
اُس کی دِید اُس کا چہرہ
میری آنکھوں کوتسکین دیتا ہے'
اُس کا احساس اُس کا تصوۤر
میرے وجود کو تسکین دیتا ہے
اُس کی گفتگو اُس کی سوچ
میری رُوح کو تسکین دیتی ہیں
عشق ہے نہ جنون ہے
اُس کا ساتھ میرے لئے
سراپائے سکون ہے
UA
اُس کا ساتھ میرے لئے
سراپائے سکون ہے
اُس کی آواز اُس کا لب و لہجہ
میری سماعت کو تسکین دیتا ہے
اُس کی دِید اُس کا چہرہ
میری آنکھوں کوتسکین دیتا ہے'
اُس کا احساس اُس کا تصوۤر
میرے وجود کو تسکین دیتا ہے
اُس کی گفتگو اُس کی سوچ
میری رُوح کو تسکین دیتی ہیں
عشق ہے نہ جنون ہے
اُس کا ساتھ میرے لئے
سراپائے سکون ہے
UA
"میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے" "میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے"
ریت کے صحرا میں جیسے کوئی چھاں دیکھی ہے
رات بھر جاگتی آنکھوں میں نمی رہتی ہے
میں نے تکیے پہ تڑپتی ہوئی جاں دیکھی ہے
اپنے حصّے کی خوشی بیچ کے بچوں کے لیے
ہر تھکن ہنستے ہوئے سہتی ہوئی آں دیکھی ہے
بھوک بچوں کی مٹا دے تو سکوں ملتا ہے
روٹی کم تھی مگر بانٹتی واں دیکھی ہے
گھر کی دیوار گرنے لگی جب غم آ کر
سب سے پہلے وہاں ڈھال بنی ساں دیکھی ہے
عمر بھر خود کو جلاتی رہی اک شمع کی طرح
اپنے بچوں میں بکھرتی ہوئی گاں دیکھی ہے
اب بھی رونے لگوں تنہائی میں اُس کو یا د کر
میں نے وشمہ بہت درد بھری آں دیکھی ہے وشمہ خان وشمہ
ریت کے صحرا میں جیسے کوئی چھاں دیکھی ہے
رات بھر جاگتی آنکھوں میں نمی رہتی ہے
میں نے تکیے پہ تڑپتی ہوئی جاں دیکھی ہے
اپنے حصّے کی خوشی بیچ کے بچوں کے لیے
ہر تھکن ہنستے ہوئے سہتی ہوئی آں دیکھی ہے
بھوک بچوں کی مٹا دے تو سکوں ملتا ہے
روٹی کم تھی مگر بانٹتی واں دیکھی ہے
گھر کی دیوار گرنے لگی جب غم آ کر
سب سے پہلے وہاں ڈھال بنی ساں دیکھی ہے
عمر بھر خود کو جلاتی رہی اک شمع کی طرح
اپنے بچوں میں بکھرتی ہوئی گاں دیکھی ہے
اب بھی رونے لگوں تنہائی میں اُس کو یا د کر
میں نے وشمہ بہت درد بھری آں دیکھی ہے وشمہ خان وشمہ
"مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی" "مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی"
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی
سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی
بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی
گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی
شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی
جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی
اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی وشمہ خان وشمہ۔
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی
سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی
بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی
گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی
شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی
جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی
اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی وشمہ خان وشمہ۔
"ماں نے آنکھیں کھول دیں، گھر میں اُجالا ہو گیا" "ماں نے آنکھیں کھول دیں، گھر میں اُجالا ہو گیا"
چاند جیسے اِک دعا کا پھر نزولا ہو گیا
رات بھر دیوار و در سنتے رہے خاموشیاں
صبح اُس کے مسکرانے سے سویرا ہو گیا
خشک ہونٹوں پر تبسم کی نمی اُتری تو پھر
صحن کا بوسیدہ پودا بھی ہرا بھرا ہو گیا
اپنی محنت کی کمائی سے جلایا تھا چراغ
اِک ذرا سی روشنی میں دل بھی یہ بڑ ا ہو گیا
باپ کے چہرے کی تھکن آخر کہاں جاتی رہی
بیٹیوں کو ہنستے دیکھا تو وہ ہلکا ہو گیا
عمر بھر جس کو چھپاتے پھر رہے تھے آنسوؤں میں
اِک محبت کے ملنے سے وہ قصہ ہو گیا
اب و شمہ اس شہر میں تنہا نہیں لگتا مجھے
تیری یادوں کا مرے دل میں بسیرا ہو گیا وشمہ خان وشمہ
چاند جیسے اِک دعا کا پھر نزولا ہو گیا
رات بھر دیوار و در سنتے رہے خاموشیاں
صبح اُس کے مسکرانے سے سویرا ہو گیا
خشک ہونٹوں پر تبسم کی نمی اُتری تو پھر
صحن کا بوسیدہ پودا بھی ہرا بھرا ہو گیا
اپنی محنت کی کمائی سے جلایا تھا چراغ
اِک ذرا سی روشنی میں دل بھی یہ بڑ ا ہو گیا
باپ کے چہرے کی تھکن آخر کہاں جاتی رہی
بیٹیوں کو ہنستے دیکھا تو وہ ہلکا ہو گیا
عمر بھر جس کو چھپاتے پھر رہے تھے آنسوؤں میں
اِک محبت کے ملنے سے وہ قصہ ہو گیا
اب و شمہ اس شہر میں تنہا نہیں لگتا مجھے
تیری یادوں کا مرے دل میں بسیرا ہو گیا وشمہ خان وشمہ
جب تک سفر میں ہوں مری ماں دعا میں رہتی ہے جب تک سفر میں ہوں مری ماں دعا میں رہتی ہے
نگاہ اُس کی مرے ہر نقشِ پا میں رہتی ہے
میں جب بھی گھر سے نکلوں تو دل یہ کہتا ہے
وہ ایک ہستی مرے حق کی صدا میں رہتی ہے
ہوا کے رخ پہ بھی ماں کی نظر ٹھہرتی ہے
وہ میرے واسطے ہر دم وفا میں رہتی ہے
میں ڈوب جاؤں اگر غم کے کسی اندھیرے میں
مرے لیے وہ چراغوں کی ضیا میں رہتی ہے
کبھی جو ٹوٹ کے بکھروں تو یہ گماں ہو مجھے
مری ہر ایک شکست اُس کی رضا میں رہتی ہے
وہ میرے درد کو خود سے جدا نہیں کرتی
عجیب بات ہے، میری قضا میں رہتی ہے
وشمہ یہ اُس کی محبت کا معجزہ ہی تو ہے
مری تمام خوشی اُس کی دعا میں رہتی ہے وشمہ خان وشمہ
نگاہ اُس کی مرے ہر نقشِ پا میں رہتی ہے
میں جب بھی گھر سے نکلوں تو دل یہ کہتا ہے
وہ ایک ہستی مرے حق کی صدا میں رہتی ہے
ہوا کے رخ پہ بھی ماں کی نظر ٹھہرتی ہے
وہ میرے واسطے ہر دم وفا میں رہتی ہے
میں ڈوب جاؤں اگر غم کے کسی اندھیرے میں
مرے لیے وہ چراغوں کی ضیا میں رہتی ہے
کبھی جو ٹوٹ کے بکھروں تو یہ گماں ہو مجھے
مری ہر ایک شکست اُس کی رضا میں رہتی ہے
وہ میرے درد کو خود سے جدا نہیں کرتی
عجیب بات ہے، میری قضا میں رہتی ہے
وشمہ یہ اُس کی محبت کا معجزہ ہی تو ہے
مری تمام خوشی اُس کی دعا میں رہتی ہے وشمہ خان وشمہ