بچوں کی نال اگر صحیح وقت پر نہ کاٹی جائے تو؟ جانیئے پیدائشی بچوں کی نال سے جڑی کچھ ضروری معلومات جو ہر ماں کو پتہ ہونی چاہیئے

image

رحم میں نال آپ کے بچے کو بڑھنے کے لیے ضروری آکسیجن اور غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے۔ یہ پائپ نما نال ماں کو بچے سے جوڑتی ہے، پیدائش کے بعد، ڈاکٹرز ڈوری کو بند کر دیتے ہیں یا کاٹ دیتے ہیں۔ آج ہم اسی موضوع پر کچھ ضروری معلومات آپ کے ساتھ شئیر کر رہے ہیں۔

بر وقت نال نہ کاٹی جائے تو:

جب بچے کی پیدائش کے فوراً بعد نال کو بند نہیں کیا جاتا یا کاٹا نہیں جاتا ہے تو بچہ اپنا زیادہ خون اپنے جسم میں واپس لے جاتا ہے۔ اضافی خون ملنے سے آپ کے بچے کی زندگی کے 4 سے 6 ماہ میں آئرن کی سطح کم ہونے کا امکان ہو سکتا ہے اور دوسرے طریقوں سے آپ کے بچے کی صحت پر اثر پڑھ سکتا ہے۔

نال بچے سے لپٹ جائے تو:

اکثر کیسس میں ایسا ہوتا ہے کہ اندرونی نال بچے کی پیٹ میں گردش کے دوران اس کے گِرد لپٹ جاتی ہے جو پیدائش کے بعد ہی بچے کے جسم سے ہٹائی جاسکتی ہیں۔ خواتین کا یہ سوال ہوتا ہے کہ نال کا بچے سے چپک یا لپٹ جانا کہیں اس کے لیئے خطرناک ثابت تو نہیں ہوسکتا؟ تو ان بہنوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پیٹ میں موجود نال کافی چپچپی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسکی گانٹھ نہیں بندھتی اور نہ ہی وہ نقصان پہنچاتی ہے۔

نال کو ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

بچے کی نال کچھ دنوں میں مکمل طور پر ٹھیک ہوجاتی ہے۔ نال کے گرنے کے بعد اس سے تھوڑا سا خون بہہ سکتا ہے، اسکے لیئے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر مسلسل نکل رہا تو یہ انفیکشن ہو سکتا ہے اور آپ کو اپنے ڈاکٹر یا زچہ و بچہ کی صحت کی نرس کو دکھانا چاہیے۔

بچہ پیٹ میں نال پکڑ سکتا ہے؟

ڈاکٹرز کے مطابق 8 ہفتوں کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر اپنا منہ اور ہونٹ چھو سکتا ہے اور اپنی آنول کو پکڑ بھی سکتا ہے۔ آنول کو پکڑنے سے بچے میں سیکھنے کی صلاحیت اور چھونے کی حس پیدا ہوتی ہے۔

WATCH LIVE NEWS

You May Also Like :
مزید