بچوں کو نپل کیوں دی جاتی ہے؟ نپل پینے کے کچھ ایسے فائدے جو کم ہی مائیں جانتی ہیں

image

بچے جب 4 یا 6 ماہ کے ہوتے ہیں تو اکثر مائیں ان کو چوسنی یعنی نپل دیتی ہیں اور بچے اس کو منہ میں چوستے رہتے ہیں لیکن کیا مائیں جانتی ہیں کہ بچوں کو چوسنی دینے کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟

بچوں کے مسوڑے چار ماہ کی عمر سے ہی بننے لگتے ہیں یعنی ان کے اندر کا غدود بڑھنے لگتا ہے اور اس دوران ان کو مسوڑوں میں بہت خارش ہوتی ہے جس کی وجہ سے پہلے نپل دیا جاتا ہے تاکہ بچہ اس کو منہ میں چوستا ہے یا ادھر ادھر کرے تاکہ خارش کی جگہ پر تھوڑی رگڑ پیدا ہو اور اس کو سکو ملے۔

جو بچے نپل لیتے ہیں ان کے دانت جلدی آتے ہیں اور ہاضمہ اچھا ہوتا ہے کیونکہ جتنی دیر وہ نپل پیتے ہیں ان کے منہ سے تھوک کا اخراج ہوتا ہے جو کہ بچوں کے ننھے سے معدے جو کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

نپل جن مالیکیولز کی وجہ سے مل کر بنتا ہے وہ اینٹی الرجک ہوتے ہیں جن سے نہ تو منہ میں چھالے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان، البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں بہت جراثیم ہوتے ہیں ۔ لیکن ایسا بالکل درست نہیں ہے اگر بچہ نپل کو آگے گھنٹے تک منہ میں تھے تو دوبار اس کو نیم گرم پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور تھوڑی دیر کے بعد اس کو دھو کر بچے کو دوبارہ دے دیں۔

فرانسیسی ریسرچ کے مطابق اس کو پینے سے بچے کے حافظے میں بھی تیزی آتی ہے اور وہ نیورانز جو دماغ سے چہرے تک براہِ راست کام کرتے ہیں وہ مزید ایکٹوو ہوجاتے ہیں ۔

WATCH LIVE NEWS

You May Also Like :
مزید