بچوں کو دودھ فیڈر میں پلانے سے ان کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ جانیں تاکہ آپ کا بچہ بھی محفوظ رہ سکے

image

چھوٹے بچوں کو دودھ عموماً فیڈر میں پلایا جاتا ہے اور جب بچہ ایک سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ خود بھی مزے سے لیٹ کر گھوم کر فیڈر میں دودھ پیتا رہتا ہے نہ والدین کو فکر ہوتی دودھ گرنے کی اور نہ کوئی پریشانی۔ فیڈر سے دودھ پلانے میں تو بڑی سہولت ہو جاتی ہے مگر اس کی صفائی کا خاص خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ پلاسٹک کی بنی ہوتی ہے اور اس میں ڈھیروں قسم کے کیمیائی مرکبات اور کیمیکلز شامل ہوتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مائیں ان فیڈروں کو پانی سے دھو کر ان میں گرم دودھ یا نیم گرم دودھ ڈال کر بچوں کو پلا دیتی ہیں اور بچے وہ مزے سے پی لیتے ہیں۔

لیکن یہ فیڈر بچوں کی صحت کی سب سے بڑی دشمن ہیں اور اس کے بارے میں ہمیں شاید معلوم ہی نہیں ہے۔ نیچر فوڈ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ:

'' دراصل بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے ڈھیروں ذرات منہ میں نگل لیتے ہیں چونکہ فیڈر پولی پروپلین سے تیار ہوتی ہیں جوکہ پلاسٹک ہے اور انجانے میں یہ پلاسٹک کے چھوٹے ذرے پیٹ خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں''۔

ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ:

'' فیڈر کو استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح ابال لیں اور پھر ان کو خشک کرکے دودھ ڈالیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دودھ کو آپ کسی بھی پلاسٹک کے برتن میں گرم نہ کریں کوینکہ اس طرح مذید ہلاسٹک کے ذرے جسم میں داخل ہونے کا خدشہ بڑھتا ہے''۔

WATCH LIVE NEWS