دونوں جڑواں بہنوں کے ہاں ایک ہی دن بچوں کی پیدائش ہوئی… کیا واقعی جڑواں بچے ایک دوسرے کا درد محسوس کرتے ہیں؟ دلچسپ حقائق

image

جڑواں بچوں کے بارے میں پڑھنا ہمیشہ دلچسپ رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا ایک ٹیلی پیتھک رابطہ ہوتا ہے کچھ ہے جو ان کے بارے میں بہت منفرد ہے جو ہمیں غلط فہمی کی طرف لے جاتا ہے- لیکن ان کو غلط ثابت بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک فطرت اور پرورش (نیچر اور نرچر) کی بحث ہے اور یقیناً یہ ایک پیچیدہ موضوع ہے۔

جڑواں بچے ایک دوسرے کے دماغ کو پڑھ سکتے ہیں، جیسے ایک وقت میں ایک ہی بات بول کر یا ایک دوسرے کے جملے مکمل کر کے۔ حقیقتاً اس طرح کے واقعات دیکھے گئے ہیں جس کے نتیجے میں یہ مفروضہ اخذ کیا گیا ہے کہ جڑواں بچوں کے اندر کوئی اضافی حس ہوتی ہے جو ان کو جوڑے رکھتی ہے چاہے یہ ایک دوسرے سے کتنے دور چلے جائیں۔ بہت ساری کہانیاں ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں۔

ucumberlands یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق محققین ایک طویل عرصے سے اس شعبے میں تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جڑواں جوڑوں کے دماغ میں اتنی ہم آہنگی ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے درد کو لاشعوری طور پر محسوس کرتے ہیں۔ جیسے ایک بھائی کا سائیکل ایکسیڈنٹ ہوا اور ہاتھ ٹوٹ گیا جب گھر آیا تو دوسرے بھائی کا بھی ہاتھ اسی جگہ سے سوجا ہوا پایا بغیر کسی چوٹ کے۔ یا ایک آدمی دل میں درد محسوس کر رہا تھا تو عین اسی وقت دوسرے بھائی کو بھی ویسا ہی درد محسوس ہوا۔

ایک دلچسپ مطالعہ کے مطابق برطانیہ کی پینتیس سالہ سارہ اور ہیدر کا رنگ و روپ ایک جیسا ہے دونوں بہنوں کی تعلیم بھی ایک جیسی ہے اور دونوں ایک ہی جگہ کام کرتی ہیں- دونوں بہنیں شادی کے بعد خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

ان کی زندگی کی اس ملتی جلتی کہانی میں ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ انہیں حاملہ ہونے کا علم ہوا اور دونوں نے یہ خوشخبری ایک ہی دن ایک دوسرے کو سنائی۔ اس کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت آیا جب جڑواں بہنوں کے ڈاکٹرز نے انہیں بچے کی ولادت کے لیے دو مختلف تاریخیں دیں-

لیکن قدرت نے اس ڈبل کہانی میں ایک اور خوشگوار واقعہ کا اضافہ کر دیا ہے۔ ان دونوں جڑواں بہنوں نے ایک ہی دن دو مختلف ہسپتالوں میں اپنے بچوں کو جنم دیا۔

آیا کہ حقیقت کیا ہے؟ اس سلسلے میں بہت مطالعہ کیا گیا اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جڑواں لوگوں کی شخصیت بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔ ایڈن برگ اسکاٹ لینڈیونیورسٹی میں اس سلسلے میں تحقیق کی جا رہی ہے، مطالعے کے مطابق تقریبا 800جڑواں جوڑے ایک جیسی شخصی خصوصیات کے حامل تھے۔ ان میں ظاہری مشابہت کے ساتھ ساتھ شخصی مشابہت بھی پائی گئی لیکن کچھ کیسز میں اگر ان کی علیحدہ پرورش کی گئی تو ان میں ہلکا پھلکا فرق پیدا ہو گیا۔

اور یہ بات تھیوری نیچر اور نرچر کو تھوڑا بہت سپورٹ کرتی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق نیچر یا فطرت ہمیں اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملتی ہے جبکہ نرچر یا پرورش کا تعلق ہمارے ماحول سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں اور پیدائش کے بعد ہماری شخصیت کا فیکٹر ہماری زندگی کے تجربے ہوتے ہیں۔ ہماری شخصیت نیچر اور نرچر کا ملاپ ہوتی ہے۔ جیسے غصہ آپ کے ماحول سے آتا ہے لیکن کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابا یا دادا غصے والے تھے۔

غرض یہ بات ایک معمہ ہی ہے اور قدرت کے اپنے اسرار و رموز ہیں سائنس تحقیق تو کر سکتی ہے لیکن حقیقت تو رب ہی جانتا ہے۔ نیچر ایک بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے جس کے راز کو سمجھنا ناممکن ہے۔

WATCH LIVE NEWS

You May Also Like :
مزید