اکثر بچوں کو الٹیاں اور موشن کیوں ہوتے ہیں! جانیے بچوں کو ڈائریا سے کیسے بچایا جائے؟

image
بچے بڑے حساس ہوتے ہیں۔ خوراک اور ماحول میں ذرا سی بد احتیاطی یا آلودگی رونما ہونے سے انہیں بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں ۔ جوبچوں کو معدے‘ گلے اور سینے کے امراض میں مبتلا کرتی ہیں ۔ موسم گرم ہو یا سرد‘ بارشوں کی آمد کے ساتھ ہی مکھیوں کی بھی یلغار ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں وبائی امراض پھوٹ پڑتے ہیں اور ان وبائی امراض میں سرفہرست دستوں کی بیماری یا ڈائریا ہے۔ اس کے علاوہ گندگی یا کوڑا کرکٹ کی وجہ سے بھی بہت سے وبائی امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ بچوں میں یہ بیماری اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال 5 لاکھ بچے دستوں کا شکار ہوتے ہیں اور دو لاکھ بچوں کی اموات اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ڈائریا کیسے پھیلتا ہے؟

گندہ ماحول آلودہ غذاؤں کو بھی زہرآلود کردیتا ہے اور ڈائریا ایسی ہی غذاؤں اور آلودگی سے لاحق ہوتا ہے۔ ڈائریا کے جراثیم منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور گندے ہاتھ‘ گندا پانی‘ باسی یا خراب کھانا‘ اس کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہیں۔

ڈائریا کی صورت میں بچوں کو کیا دیا جائے؟

ڈائریا یا دستوں کے دوران بچے کے جسم سے پانی اور نمکیات ختم ہوجاتی ہیں اور اگر خدانخواستہ پانی کی یہ کمی زیادہ ہوجائے تو بچے کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے لہٰذا ماؤں کو چاہیے کہ جیسے ہی بچے کو دست شروع ہوں اسے فوری طور پراو آر ایس پلانا شروع کردیں۔ اگراو آر ایس یا نمکول دستیاب نہ ہو تو گھر پر بھی با آسانی تیار کیا جاسکتا ہے۔ 4 گلاس ابلے ہوئے پانی میں آٹھ چائے کے چمچے چینی‘ آدھا چائے کا چمچہ نمک‘ ایک لیموں کا رس اور ایک چٹکی کھانے کا سوڈا ملا کرفوری طور پر بچے کو پلائیں۔ اسے وقفے وقفے سے بچوں کو دیتے رہیں تاکہ جسم میں ہونے والی پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ دستوں میں چاولوں کی پیچ بھی بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔ پیچ بنانے کیلئے چار گلاس پانی میں ایک مٹھی چاول اور ایک چٹکی نمک ملا کر چولہے پر ابالنے کیلئے رکھ دیں اور اس وقت تک ابالیں جب تک چاول نرم نہ ہوجائیں اس کے بعد آدھا گلاس پانی مزید شامل کردیں پھر اس آمیزے کو بلینڈر میں ڈال کر پیس لیںا ور وقفے وقفے سے پلاتے رہیں۔ اس سے دستوں میں جلد افاقہ ہوتا ہے۔

خوراک کیا دی جائے؟

مائیں عموماً بچوں کے الٹی اور دست میں بچوں کا کھانا پینا روک دیتی ہیں یہ ایک غلط طریقہ ہے کیونکہ ایک تو دستوں کی وجہ سے بچہ ویسے ہی کمزور ہوجاتا ہے دوسرا غذا روکنے سے بچے میں غذائی کمی بھی واقع ہوجاتی ہے۔ اس کے لئے بچے کو کھانے میں نرم کھچڑی‘ کیلا‘ چاول اور کھیردیں۔ اس کے علاوہ دہی دستوں کے دوران بہت مفید ہے۔ ہاں البتہ بچے کو چکنائی والی غذا نہ دیں۔ دستوں کے دوران بچے کو وقفے وقفے سے کھانے کو دیں ۔ ہمارے ہاں بیشترمائیں دستوں کے دوران بچے کا دودھ و غذا بھی روک لیتی ہیں جس سے بچے کی حالت اور بگڑ جاتی ہے۔ اگر صحیح پانی اور نمکیات کے ساتھ بچے کو غذا بھی ملتی رہے تو بچے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا‘ ہاں البتہ اگر دستوں کے ساتھ ساتھ الٹیاں بھی زیادہ ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اکثر مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کو ایسی دوائیں دی جائیں جن سے دست فوراً رک جائیں لیکن ایسا اس لیے ممکن نہیں کہ دست روکنے والی دوا دینے سے بچے کا پیٹ بھی پھول سکتا ہے اور جراثیم پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں زہر پھیلنے سے بچے کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے لہٰذا دستوں کے دوران بچے کو غیرضروری دوائیں ہرگز نہ دیں بلکہ زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں تاکہ پھول جیسے بچوں کی تازگی اور تندرستی برقرار رہے۔

WATCH LIVE NEWS

You May Also Like :
مزید