مجھے بچے چاہیئے تھے، اس لئے 4 مرتبہ تکلیف برداشت کی ۔۔ آئی وی ایف کا عمل کیسا ہے؟ ماریہ علی اپنی کہانی بتاتے ہوئے

image

اولاد کی خواہش سب کرتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کے ہاں اولاد نہیں ہوسکتی ان کا غم سمجھنا آسان نہیں۔ خواتین خصوصاً ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں اور ان کی زندگی میں کئی قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جب اولاد کا حصول ممکن نہ ہو تو ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب آئی وی ایف کا ایک ایسا ذریعہ متعارف کروایا گیا ہے جس کے بعد قدرتی طور پر اولاد کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ آئی وی ایف کا عمل ایک مرتبہ کروانے سے آپ کو اولاد مل جائے گی۔

آئی وی ایف صرف ایک ذریعہ ہے جو ایک میڈیکل علاج ہے جس کی وجہ سے 70 فیصد خواتین پہلی مرتبہ کے بعد حاملہ ہو جاتی ہیں، لیکن ہر کسی کے لئے پہلے مرحلے کے بعد اولاد حاصل کرنا ممکن نہیں۔

آئی وی ایف کا مرحلہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس میں کئی انجیکشن آپ کو لگائے جاتے ہیں جس سے حد سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے، کبھی ہڈیوں کا درد تو کبھی جسم میں کسی اور حصے میں درد۔ اس سب کے باوجود خواتین اس عمل کی جانب سے بڑھ رہی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایک المیہ ہے کہ یہ پراسیس اولاد کے حصول کے لئے ممکن نہیں البتہ یہ ایک میڈیکل علاج ہے جسے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دور میں خوب سراہا جا رہا ہے۔

معروف اینکر پرسن ماریہ میمن نے اپنے شو میں معروف ڈائریکٹر ماریہ علی کو مدعو کیا۔ ماریہ نے یہ عمل 4 مرتبہ کروایا اور شدید تکلیف سے گزریں۔ ماریہ کہتی ہیں کہ:

'' مجھے بچے چاہیئے تھے، اس لئے 4 مرتبہ تکلیف برداشت کی، میں جسمانی تکلیف میں مبتلا تھی، مجھے میرے شوہر نے یہاں تک کہا کہ اگر نہیں کرسکتی تو مت کرو، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا، مجھے سمجھایا۔ لیکن میں یہ کرنا چاہتی تھی اور میں نے 4 سال میں 4 مرتبہ اس تکلیف کو برداشت کیا۔ میں نے پہلی مرتبہ سنگاپور سے یہ پراسیس کروایا، اس کے بعد 2 مرتبہ مذید کروایا اس طرح تیسری مرتبہ میں حاملہ ہوئی، لیکن مجھے انڈومیٹروسس تھا جس کے باعث ڈاکٹر نے کہا کہ یہ بچہ زندہ نہیں رہ سکے گا، میں نے اس تکلیف کو دوبارہ گلے لگایا اور چوتھی مرتبہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی جس کے بعد خدا نے مجھے بیٹی عطاء کی۔ ''

ماریہ نے مذید کہا کہ: '' ہمارے ہاں لوگ اس بات کو چھپاتے ہیں، منع کرتے ہیں، پاکستان میں تو ڈاکٹر بھی منع کرتے ہیں کہ کسی کو نہ بتائیں، جبکہ یہ کئی ماؤں کے مسائل کا واحد حل ہے۔ ''

WATCH LIVE NEWS

You May Also Like :
مزید