میں دوبارہ زندہ ہوگئی ۔۔۔ 2 سال بعد سمندر سے زندہ ملنے والی لاپتہ خاتون کی پر اسرار کہانی

کہا جاتا ہے جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے یہ محاورہ حقیقتاً بلکل درست ہے اور کئی مواقعوں پر آپ نے سنا بھی ہوگا کہ کوئی شخص موت کا سامنا کرکے بھی زندہ بچ جاتا ہے۔ یہی کچھ ہوا کولمبیا کی اس خاتون کے ساتھ بھی۔

تفصیلات کے مطابق:

بحرِ اوقیانوس میں پانی کی سطح پر ایک خاتون تیرتی ہوئی نظر آئی جس کو مقامی مچھیروں نے بچانے کی بھرپور کوشش کی اور بالاخر اس خاتون کو زندہ بچا لیا گیا، پوچھ گچھ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ دو سال سے اسی سمندر میں تیر رہی ہے۔

برطانوی نیوز ویب سائٹ فوکس کے مطابق سمندر کے اندر 2 سال تک رہنے والی 46 سالہ خاتون کا نام اینجلیکا گیتن ہے جو شوہر کے ظلم وستم سے تنگ آ کر 2018ء میں اپنا گھر بار چھوڑ کر چلی گئی تھی اور دلبرداشتہ ہو کر اس نے سمندر میں چھلانگ لگادی تھی۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ 2 سال سے سمندر میں ہے اس کو کسی نے دیکھا نہیں کسی آبی جانور نے اس پر حملہ نہیں کیا اور اس کو کسی قسم کی کوئی خراش بھی نہیں ہے۔

خاتون کو ریسکیو کرنے والے مچھیروں رولانڈو اور ان کے ساتھی نے بتایا کہ ہم سمندر سے آگے چند میل کے فاصلے پر شکار کرنے جاتے ہیں مگر آج جب ہم شکار کے لئے جارہے تھے تو دور سے محسوس ہوا کہ کوئی عجیب و غریب چیز پانی پر تیر رہی ہے، پھر لگا کہ لکڑی کا ٹکڑا ہو کوئی۔

لیکن جب ہم اس کے قریب گئے تو ایک زندہ خاتون کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پانی پر تیرتے ہوئے دیکھا جس کو دیکھ کر ہم خود بھی ڈر گئے مگر ہم نے ہمت کی اور اس کو بچانے کے لئے کوشش کی۔

جب ہم نے خاتون کو بچایا تو اس کے الفاظ سن کر ہم بھی حیران ہوگئے:

'' خاتون کا کہنا تھا: میں دوبارہ زندہ ہوگئی، خدا نے بچا لیا، وہ مجھے مرنے نہیں دینا چاہتا''۔

پولیس نے جب خاتون سے بات کی تو اس نے بتایا کہ:

'' میری شادی آج سے 22 سال پہلے ہوئی تھی روزانہ میرا شوہر مجھ پر ظلم کرتا تھا، مارتا پیٹتا تھا، یہ سلسلہ میری پہلی بیٹی کی پیدائش سے ہی شروع تھا میں اسی وقت اپنا گھر چھوڑنا چاہتی تھی لیکن میری بچی بہت چھوٹی تھی، اس کے بعد دوسری بیٹٰ کی پیدائش ہوئی پھر بھی شوہر کے رویے میں نرمی نہ آئی۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور بیچ سمندر میں چھلانگ لگا دی''۔

پولیس نے مذید پوچھا کہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے بعد بھی 2 سال تک کیسے زندہ رہی:

جس کے جواب میں خاتون نے کہا کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں کہ اتنے وقت تک کیا ہوا کیا نہیں مجھے کچھ یاد نہیں اور نہ کچھ احساس ہوا۔ آج جب میں نے دو لوگوں کو سمندر پر جاتے ہوئے دیکھا تو نیم بے ہوشی کی حالت میں ان کو مدد کے لئے پکار دیا، وہ مچھیرے نیک انسان تھے انھوں نے مجھے ہسپتال پہنچا دیا''۔

YOU MAY ALSO LIKE :