میرے دوسرے شوہر نے مجھے 3 بچوں کے ساتھ قبول کیا ۔۔ ایسی کہانی جو طلاق یافتہ عورت کو زندگی جینے پر مجبور کر دے

image

شادی شدہ زندگی میں اگر میاں بیوی دونوں ہی ایک دوسرے سے خوش نہ ہوں اور آپس میں اختلافات کی بھرمار ہو، نئی امید نظر نہ آئے تو خود کو تکلیف میں رکھنے سے بہتر ہے کہ اچھے مستقبل کی سوچ میں اس رشتے کو ختم کر دیا جائے اور زندگی میں آگے بڑھا جائے۔ ہمارے معاشرے میں طلاق عورت کے لئے ایک طعنہ بن جاتی ہے جس کے بعد اس کے لئے زندگی میں کچھ بھی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر شادی کے نام پر جبری ظلم برداشت کرنا خود کے ساتھ زیادتی کرنے کے مترادف ہے۔

بھارت کی شیوانی نامی خاتون نے اپنی کہانی جب لوگوں کو بتائی تو ہر کوئی ان کو مضبوط ترین عورت قرار دے رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ شیوانی کہتی ہیں: میں نے 12 سال تک اپنے 3 بچوں کی خاطر شوہر کو برداشت کیا، اس کی ہر غلط بات اور ناانصافی کو بھی دل سے لگایا مگر مجھے اس کا کوئی حاصل وصول ہوا، نہ میں خوش رہی اور نہ میرے بچے۔ ایک مقام پر میں نے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا۔ میرے اس فیصلے پر ہر کسی نے مجھے غلط سمجھا لیکن میں جانتی ہوں کہ میں نے کس تکلیف میں یہ قدم اٹھایا۔ بعد ازاں مجھے احساس ہوا کہ کاش اگر میں بچوں کی وجہ سے یہ سب نہ کرتی اور پہلے ہی طلاق لے لیتی تو آج میرے بچے ذہنی طور پر یوں ڈرے سہمے نہ ہوتے کیونکہ میرے شوہر نے بچوں کو بھی کبھی دل سے نہ لگایا اور ہمیشہ ہماری تذلیل کی۔

لیکن 39 سال کی عمر میں دوبارہ شادی کا سوچا اور آن لائن فیس بُک پلیٹ فارم کی وجہ سے وینے نامی شخص سے ملی جن سے ایک دو مرتبہ میسج پر بات ہوئی اور پھر 5 گھنٹے تک فون کال ہوئی جس پر ہم دونوں کو احساس ہوا کہ ہمیں جلد شادی کرلینی چاہیئے کیونکہ وہ بھی 1 بیٹے کے باپ تھے، ان کی بیوی جا چکی تھی اور میں نے خود اپنے شوہر کو چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اسی ماہ کی 18 تاریخ کو شادی کی۔

میری شادی کے فیصلے پر معاشرے کی دیوار بھی سامنے آئی اور کسی نے کہا کہ اپنی شادی سے اپنے بچوں کو دور رکھو۔ لیکن جب میں شادی کے سٹیج پر گئی تو اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر گئی اور سب کے سامنے اپنے بچوں کو ظاہر کیا۔ میرے تینوں بچوں کو وینے نے اپنے بچوں کی طرح قبول کیا اور شادی کے دن وینے کا بیٹا بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس دن ہم 2 لوگوں نے نئی زندگی شروع نہیں کی بلکہ ہم 6 لوگوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور اب زندگی کے 5 سال مزید گزر گئے۔ آج بھی ہم ایک مضبوط جسم کی طرح ایک ساتھ رہتے ہیں۔

شیوانی کہتی ہیں کہ عورتیں شادی اور طلاق کے جیسے خطرناک تجربے کے بعد خود کو پنجرے میں بند کرلیتی ہیں جبکہ ہر انسان کو اپنی زندگی اپنی مرضی اور خوشی سے جینے کا حق ہے۔ میں نے بھی یہی کیا۔ اگر آپ ایک طلاق یافتہ خاتون ہیں تو خود کی طرف توجہ دیں۔ کسی کے دھوکے کو دل سے لگانے سے اچھا ہے کہ اپنی زندگی میں اتنا خوش رہو کہ آپ کو دیکھ کر ہر کوئی رشک کرے۔ بچوں میں زندگی ہے۔ اگر عورت کسی ایسے مرد سے شادی کرے جس کے خود کے پہلی بیوی سے بچے ہیں تو آپ ان کا بھی خیال کرو۔ گھر کا ماحول پرسکون ہوگا تو زندگی میں خوشیاں ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

You May Also Like :
مزید