جھانسی کی رانی کون تھی اور یہ آج تک اتنی مشہور کیوں ہے؟

عورت کا کردار صرف ایک گھر کی خوشحالی کا آئینہ نہیں ہے بلکہ ایک قوم ایک ملک کی شناسہ ہوتی ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی جھانسی کی رانی لکشمی بائی کو آج تک ان کی بہادری اور مضبوط عورت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کون تھی جھانسی کی رانی یا پھر یہ صرف ڈرامائی کردار ہے۔۔۔۔؟

جھانسی کی رانی :

1857ء میں جب دہلی، کان پور، سکندر باغ اور دیگر ہندوستان کے علاقے جنگ کی زد میں آرہے ہیں تھے وہاں کا آخری معرکہ جھانسی کا تھا جوکہ خود جھانسی سلطنت کی مالکن لکشمی بائی نے میدانِ جنگ میں کھڑے ہو کر مردوں کی طرح لڑی اور یہی ان کی وجئہ شہرت بنا۔ اسی لیئے آج کبھی کوئی عورت مشکل حالات کا سامنا اکیلی کھڑی ہو کر کرے تو اسے جھانسی کی رانی سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ جھانسی کی رانی کابچپن میں نام منو بائی تھا اور بعد میں لکشمی بائی کے نام سے معروف ہوئی۔ یہ جھانسی کے راجہ گنگا دھرا راﺅ کی دوسری بیوی تھی اور بدقسمتی سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ گنگا دھر راﺅ کی وفات کے بعد انگریز سرکار سے جھانسی کی رانی لکشمی بائی کو پانچ ہزار روپے ماہوار پنشن مقرر ہو گئی۔ شوہر کی ذاتی جائیداد انگریزکے قبضے میں رہی جس پررانی جھانسی کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اپنی زندگی میں آخر وقت تک انگریزوں سے مقابلہ کرتی رہیں۔

جھانسی کی رانی کا کردار :

ان کا حافظہ اتنا تیز تھا کہ محل میں موجود ساڑھے سات سو سرداروں میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو انھیں یاد رہتا تھا۔ تحائف کو خادموں میں تقسیم کرتی۔گہرے نیلے رنگ کا کوٹ، پاجامہ اور ٹوپی جوکہ مردانہ لباس پہنتی تھی۔ اس کا پہناوا تھا۔ کمر میں دوپٹہ باندھتی، ساتھ شمشیر لٹکتی ہوئی۔ میدانِ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کی نگرانی خود کرتی۔

YOU MAY ALSO LIKE :