ایک شہزادے نے میری زندگی تباہ کردی، خواجہ سرا کا کردار ، ایمان جمیل ناو نگار

بچپن سے ہی لڑکیوں کےذہنوں میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف شادی ہے۔وہ اپنی زندگی اپنے طورپرنہیں گزار سکتی ہیں۔ لڑکیاں کمزور ہوتی ہیں لہٰذا انھیں ایک آگے قدم بڑھانے اور جینے کے لیئے ایک ایسے مرد کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سنبھال سکے۔

چونکہ مرد ہر روپ میں عورت سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اورزیادہ باگ دوڑ کرسکتے ہیں۔ یہ نظریات صرف قبائلی علاقوں میں نہیں پوش علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر آج ہم آپ کو ایسی خاتون ناول نگار سے ملاقات کروانے جارہے ہیں جن کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے اور وہ سماجی معملات میں اپنی تحریروں، کہانیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ناول کی مصنفہ آسیہ جمیل عرف عام میں ایمان جمیل کے نام سے شہرت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ : ''پاکستانی اور بالخصوص پشتون قبائلی معاشرے لڑکیوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے جبکہ اگر کسی کے ہاں خواجہ سرا پیدا ہوجائے تو ان کو معاشروے میں جینے نہیں دیا جاتا جوکہ ہماری قوم کا علمیہ ہے اسی وجہ سے میں نے یہ ناول لکھا ہے جس میںا یسے تمام فرسودہ نظریات کی نفی کی ہے۔''

ان کا ناول: '' ایک شہزادہ جس نے میری زندگی تباہ کردی'' کے نام سے لکھا ہے جس میں انھوں نے خواجہ سرا کے کردار کو مضبوطی سے پیش کیا ہے جو زندگی کی تلخیوں سے گزر کر ایک کامیاب زندگی گزارتا ہے۔ ''

یہ ناول 154 صحفات پر مشتمل ہے جس میں خواتین کے دو اہم کردار ہیں جن کے گرد ساری کہانی گھومتی ہے۔ ان دونوں کرداروں کا تعلق ضم شدہ اضلاع سے ہوتا ہے ۔

ایمان جمیل کا کہنا ہے کہ: ''میں نے ضم شدہ اضلاع میں خواتین کے مسائل پر بہت کام کیا ہے۔ وہاں لڑکیوں کے مسائل نے مجھے ناول لکھنے پر مجبور کیا اور مقصد بھی یہی ہے کہ ان حقیقی مسائل کو دنیا کے سامنے لایا جاسکے اور تمام تر ایسی روایات کا خاتمہ کیا جائے جوکہ ہماری لڑکیوں اور عورتوں کی زندگی تباہ کر رہے ہیںا ن کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں''۔

ایمان کہتی ہیں کہ: '' خوبصورتی ہی کامیاب زندگی کی ضامن نہیں ہوتی بلکہ اچھی تربیت، اچھا کردار، اچھا اخلاق ہی ایک عورت کو کامیاب بناتا ہے، جو لوگ عورت کو اچھی شکل کی وجہ سے پسند نہ پسند کرتے ہیں انھیں اپنی کم عقلی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔''

YOU MAY ALSO LIKE :