14 سال سے بچے کے لیے تڑپ رہی تھی، جب ماں بنی تو خود مرگئی ۔۔ عورت نے بچے کی خاطر کیا کچھ برداشت کیا؟ ڈاکٹر نے حال بتا دیا

image
ہمارے مذہب میں ماؤں کی بہت زیادہ اہمیت ہے،ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ماؤں کے قدموں تلے اپنی جنت بکھیر دی ہے۔ والدین کی قربانیوں کا نعم البدل کچھ نہیں ہو سکتا ،ماں ہو یا باپ !ان کی عظمت اور ان کی قربانیاں اولاد کی زندگی بنانے کے لئے ہوتی ہیں۔ ماں کی اہمیت شاید اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ اولاد کو جنم دیتی ہے ۔اس عمل میں بعض اوقات وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں شوہر یا خاندان والے اس بات کو ایک معمول کی بات سمجھتے ہیں کہ اگر عورت بچے کو جنم دیتے ہوئے کسی پیچیدگی سے گزرتی ہے تو اس کو کوئی کمال نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کو ہی مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے کہ اس نے ہی کچھ ایسا کیا ہوگا جس کی وجہ سے یہ پیچیدگی ہوئی۔

آج ہم یہاں ایک ڈاکٹر کی کہانی بیان کر رہے ہیں جس نے بتایا کہ ایک خاتون نے بچے کی خاطر کیا کچھ برداشت کیا،یہ ایک سچی کہانی ہے۔

"آج کا دن میری زندگی کا اداس ترین دن ہے،بحیثیت ایک ڈاکٹر کے میں ہر روز کئی ڈیلیوریز کرواتی ہوں اور ہر روزمیری ہر ماں کے لئے یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔ جو درد ایک نئی زندگی کو تخلیق کرتے وقت ہرعورت برداشت کرتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ کاش کہ مرد اس اذیت کو محسوس کر سکیں،اور وہ تکالیف جو پورے 9 ماہ بچے کو اپنی کوکھ میں اٹھا کروہ سہتی ہے وہ ایک الگ کہانی ہوتی ہے۔آج لیکن میں نے اس عمل میں ایک ماں کو کھو دیا،ہم ایسا کچھ نہیں سوچ سکتے نہ کبھی اس کی دعا کرتے ہیں لیکن اللہ کی مصلحت اللہ ہی بہتر سمجھ سکتا ہے۔ اس خاتون کی کہانی میں یہ چیز سب سے تکلیف دہ تھی کہ اس نے 14 سال اولاد کے لئے انتظار کیا تھا اور اس کی خواہش میں ہر وہ طریقہ اپنایا جو کہ ممکن تھا حتیٰ کہ آئی وی ایف کا عمل بھی کروایا اور دوسرے ممکنہ طریقے بھی ۔آخر کار اللہ نےان کی سن لی اور ان کے حمل ٹہر گیا۔ یہ کیسے ہوا یہ سائنس اور انسانی عقل سے پرے کی بات ہے،ان کی بچہ دانی میں رسولی اور فائبرائیڈز کا گچھا بھی موجود تھا ۔آہستہ آہستہ فائبرائیڈز ختم ہونا شروع ہوگئیں اور سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ آخر ولادت کا وقت آگیا، 7 گھنٹے کے کربناک دردوں کے بعد بھی بچہ نہیں ہو سکا تو ہم نے آپریشن کا فیصلہ کیا ۔ لیکن اس کے باوجود ہم اس کو بچا نہ سکے ۔ بچہ بچ گیا لیکن ماں نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ مرنے سے پہلے ماں نے اپنے بچے کو اپنے بازؤں میں لیا اور ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ کر "اللہ اکبر" کہا اور سکون سے آنکھیں موند لیں۔۔۔ جب میں نے یہ خبر اس کے شوہر کو سنائی تو وہ برداشت نہ کر سکا اور بےہوش ہوکر گر گیا،اس کی خوشی کا یہ دن اس کی زندگی کا خوفناک ترین دن بن چکا تھا۔"

یہان میں صرف یہ کہنا چاہوں گی کہ پلیز عورت کی عزت کریں، ہر ماں کی عزت کریں،ایک بچے کو تخلیق کرتے ہوئے عورت موت کی وادی سے گزر کر آتی ہے۔ اپنی بیوی کی عزت کریں، آپ کے بچے کو وہ 9 ماہ اپنی کوکھ میں رکھتی ہے کیسی کیسی تکالیف سے گزرتی ہے، اپنے خون سے اس کی پرورش کرتی ہے، مرد چاہتے ہوئے بھی ان سب چیزوں کا اندازہ نہیں کر سکتا ۔

اچھے ہمسفر!اپنی بیوی کو عزت دیں کیونکہ وہ جان پر کھیل کر آپ کی نسل کو پروان چڑھاتی ہےاس کو اپنی دعاؤں میں رکھیں،اللہ ان سب کو اپنی امان میں رکھے جو یہ پڑھ رہے ہیں خاص کر وہ خواتین جو ماں بننے والی ہیں۔اللہ انہیں ہمت دے اور ان کے آگے کے مراحل آسان کرے۔

WATCH LIVE NEWS

You May Also Like :
مزید