موٹر سائیکل شو میں حصہ لینے والی افغان لڑکیاں

زمانہ اب بدل چکا ہے پہلے خواتین گھروں تک محدود تھیں لیکن اب وہ تمام شعبہ جات میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔

افغانستان کے ایک دور دراز علاقے میں موٹرسائیکل رسینگ پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں افغان خواتین نے غیر معمولی ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرکے مردوں کے مدمقابل آکر حصہ لیا۔

مقابلے کی وجہ سامنے آئی وہ یہ کہ افغانستان میں خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں جس کے باعث اس سے نجات پانے کے لئے ایک انوکھی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں خواتین کے موٹر سائیکل شو سمیت متعدد پروگرام شامل ہیں تاکہ یہ احساس دلایا جائے کہ خواتین کسی سے کم نہیں ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرسکتی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی تنظیم آکسفیم انٹرنیشنل کے تعاون سے جاری اس 16 روزہ آگاہی مہم میں میرامور، شہرستان اور نیلی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے موٹر سائیکل شو کا مقصد خواتین کے حقوق کی طرف عوام کی توجہ مبذول کروانا ہے۔

ویسے تو افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں موٹر سائیکل کی سواری عام بات ہے لیکن خواتین کا موٹرسائیکل چلانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

دایکندی میں خواتین کے لیے قائم ادارے کی ڈائریکٹر مرضیہ ہمدرد نے کہا کہ یہ پروگرام اس لئے ضروری ہے کہ موٹر سائیکل پر بیٹھنا کوئی عجیب بات نہیں اور خواتین کو بہتر، زیادہ آزاد اور محفوظ ماحول میں رہنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان خواتین موٹرسائیکل سواروں نے دوسرے خاندانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی زندگیاں آسان بنانے کے لیے انہیں موٹر سائیکل چلانے اور اسے سیکھنے کی اجازت دیں۔

خیال رہے کہ تقریباً چھ دہائیوں قبل اقوام متحدہ نے 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے جوش و جزبے اور عورت کے حقوق کے لئے مہم چلائی جاتی ہے۔

YOU MAY ALSO LIKE :