سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے اعلان کیا ہے کہ ماہ رمضان کے آغاز کے پیش نظر اپوزیشن کا دھرنا ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اپوزیشن اگلے لائحہ عمل پر غور کرے گی۔
قبل ازیں علامہ راجا ناصر عباس کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی میں فاصلے کم کرنے کیلیے کردار ادا کرنے کو تیار ہوں،
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر ان کے کہیں جانے سے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان دوریاں کم ہوتی ہیں تو وہ اس کیلیے تیار ہیں، تاہم وہ وہی کریں گے جو محمود خان اچکزئی انہیں کرنے کو کہیں گے۔
انہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے جو خوش آئند بات ہے، لیکن مکمل اطمینان کیلیے ضروری ہے کہ ان کی فیملی، ساتھیوں اور ذاتی ڈاکٹرز کی ملاقات کروائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے تو تمام خدشات اور معاملات بہتر انداز میں حل ہوسکتے ہیں،
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ احتجاج اور مذاکرات کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی تھی، قیادت نے دھرنے کا اعلان کیا اور ہم نے اس پر عمل کیا۔ آج قیادت نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا، ہم بھی اسے ختم کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں دھرنا لوگوں کی طرف سے دیا گیا، اور پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں عدالت کا احترام ضروری تھا۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس دوران تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا۔