ہائیر ایجوکیشن کمیشن نےملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات میں بیچلرز اور ماسٹرز پروگرامز کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو لازمی مضمون قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ آئندہ تعلیمی سیشن سے نافذ العمل ہوگا۔
ایچ ای سی کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو جدید تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی جاب مارکیٹ میں مؤثر مقابلہ کرسکیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی پوزیشن بہتر کرنے کے لیے یہ قدم نہایت اہم ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اے آئی کی بنیادی سمجھ ناگزیر ہوچکی ہے اور اس مضمون کو لازمی قرار دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی سے واقف افرادی قوت نہ صرف جدت کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے لے جانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
پروفیسر خالد مسعود (پرو وائس چانسلر، University of the Punjab) اور میاں عمران مسعود (ایک نجی جامعہ کے سربراہ) نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف نصاب میں مضمون شامل کرنا کافی نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کی کامیابی مؤثر عملدرآمد سے مشروط ہے، جس کے لیے جامعات کو ٹیک انڈسٹری سے مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے اور طلبہ کو عملی تربیت فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ حقیقی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوسکیں۔
تعلیمی حلقوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مضمون کو محض رسمی تقاضا بنانے کے بجائے اسے عملی اور تحقیق پر مبنی انداز میں پڑھایا جائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔