جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیدوار اور سپلائی چین متاثر ہونے سے پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے تیل خریدنے اور شپنگ کے معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل شپنگ لائنز سے جہازوں کی دستیابی میں کمی، شپنگ کرایوں میں اضافہ اور وار رسک سرچارج لگنے کے باعث پاکستان کی تیل درآمدات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خریدار زیادہ ہیں اور پریمیم وصول کیا جا رہا ہے جس کے باعث سرکاری و نجی تیل کمپنیز تیل کے ٹینڈرز پر پیشرفت کے لیے انتظار کر رہی ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کو گزشتہ عالمی ٹینڈر میں بولی دہندگان نہ ملنے کے بعد آج ایک ہنگامی ٹینڈر جاری کرنا پڑا ہے، جس میں 15 کروڑ لیٹر پیٹرول کے لیے بولیاں 13 مارچ کو کھلیں گی۔
پی ایس او کے ترجمان نے بتایا کہ آج کے ٹینڈر میں بین الاقوامی کمپنیوں کی بھرپور شرکت ہو رہی ہے اور موصول ہونے والی بولیوں پر کام جاری ہے۔ عالمی صورتحال کے پیش نظر پی ایس او نے فیول اسٹاک کی سطح مزید بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں فیول کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے پی ایس او ہر ممکن اقدامات کرے گا۔