گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ نے ایڈمٹ کارڈز کے عدم اجراء اور ناقص انتظامات کی وجہ سے نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کو ایک ہفتے کے لیے موخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ہزاروں اسکولوں کے لاکھوں طلبہ کے ایڈمٹ کارڈز اب تک پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہوسکے ہیں، جس کی وجہ سے والدین، طلبہ اور اسکول انتظامیہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔
اعزازی سیکریٹری ڈی ایم دانش بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں وزیر یونیورسیٹیز اینڈ بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو سے اپیل کی گئی ہے کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر امتحانی شیڈول کو فوری طور پر آگے بڑھایا جائے۔ الائنس کا موقف ہے کہ ابھی تک امتحانی مراکز فائنل نہیں ہو سکے اور نہ ہی امتحانی سامان کی تقسیم مکمل ہوئی ہے، یہاں تک کہ کئی اسکولوں کو اپنے مرکز بننے کا علم تک نہیں ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ نامکمل انتظامات اور افرا تفری میں بنائے گئے مراکز پر امتحانات لینا تعلیم کے ساتھ مذاق ہے اور چار لاکھ بچوں کا مستقبل کسی کی ذاتی انا کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پرسکون ماحول میں امتحان دینا ہر طالب علم کا قانونی حق ہے، لہٰذا مراکز اور ایڈمٹ کارڈز کی درستگی کے لیے وقت دیا جائے۔
گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ نے اس حوالے سے آج شام چار بجے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔