راولپنڈی میں میٹرک کے اردو کے پیپر کے معاملے پر راولپنڈی تعلیمی بورڈ کی مبینہ نااہلی کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
قائم مقام چیئرمین تعلیمی بورڈ و کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک اور کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر کی کمزور انتظامی گرفت کے باعث طلبہ و طالبات کو بروقت آگاہی نہ دی جا سکی کہ آج میٹرک کا اردو کا پرچہ ہوگا یا نہیں۔
طلبہ و طالبات صبح سویرے سخت سیکیورٹی، متعدد ناکوں اور چیکنگ کے مراحل عبور کرتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے امتحانی مراکز پہنچے، تاہم وہاں پہنچ کر انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد امتحانی مراکز کے گیٹ بند تھے جبکہ عملہ موجود نہ ہونے کے برابر تھا اور کہیں بھی پیپر کی منسوخی سے متعلق کوئی نوٹس آویزاں نہیں کیا گیا تھا۔
صبح 9 بجے کے قریب راولپنڈی تعلیمی بورڈ انتظامیہ نے تصدیق کی کہ شہر کے 64 امتحانی مراکز میں آج ہونے والا میٹرک کا اردو کا پرچہ منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم اس تاخیر سے دی گئی اطلاع کے باعث طلبہ اور والدین گھنٹوں امتحانی مراکز کے باہر خوار ہوتے رہے۔
متاثرہ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غفلت کے ذمہ دار افسران، خصوصاً قائم مقام چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات کے خلاف فوری انکوائری کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔