کراچی میں جاری میٹرک امتحانات کے دوران نقل مافیا کے سرگرم ہونے اور فی طالب علم 5 ہزار روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
قائد آباد میں واقع گریس اکیڈمی لرننگ سیکنڈری اسکول میں مبینہ طور پر رشوت لے کر امتحانی سینٹرز قائم کرنے اور طلبہ کو نقل کروانے کا سلسلہ جاری رہا۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے جس میں ایک نجی اسکول کا نمائندہ رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ڈائری میں مختلف اسکولوں سے وصول کی گئی رقم کا باقاعدہ اندراج بھی موجود ہے۔
اس واقعے نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں اور تعلیمی حلقوں نے ویڈیو شواہد سامنے آنے کے بعد گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ حلقوں اور والدین کی جانب سے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ کراچی میں میٹرک امتحانات کے دوران نقل کی شکایات اکثر سامنے آتی رہتی ہیں، تاہم باقاعدہ ریٹ مقرر کرنے اور دستاویزی شواہد ملنے کے بعد اس بار معاملے کی سنگینی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
دوسری جانب ملیر میں میٹرک کے امتحانات کے دوران طلبہ و طالبات کے لیے وی آئی پی کمروں کی سہولت کا انکشاف ہوا ہے۔
گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کالا بورڈ اور گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول برف خانہ میں اسکول کے عقبی حصے میں ایسے خصوصی کمرے بنائے گئے ہیں جہاں طلبہ کو موبائل فون استعمال کرنے اور مل کر پرچہ حل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
ان کمروں میں طلبہ اساتذہ کی مبینہ مدد سے کھلے عام نقل کرتے رہے اور ان کے لیے ہر قسم کی سہولت موجود رہی۔