اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں بنیادی شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے طویل اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں ملکی و عالمی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مرکزی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی چین میں رکاوٹیں معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں جس کے باعث شرح سود میں اضافہ ناگزیر سمجھا گیا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے بدلتے ہوئے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ عالمی صورتحال، خصوصاً ایران امریکا کشیدگی نے پاکستان میں شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی ہے، جبکہ جنگی خدشات کے باعث معاشی پالیسیوں میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک نے تقریباً دو سال بعد شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل شرح سود 22 فیصد کی بلند سطح سے کم ہو کر 10.5 فیصد تک آ چکی تھی اور اپریل 2024 سے مرکزی بینک شرح سود کو کم یا برقرار رکھے ہوئے تھا۔