وسطی یورپی ملک ہنگری کے مغرب میں واقع دو شہروں زالاایگرسیگ اور زالاسینتیوان کے درمیان ایک کھلے میدان میں بنایا گیا نیا راؤنڈ اباؤٹ توجہ کا مرکز بن گیا ہے جو کسی بھی سڑک یا بنیادی انفراسٹرکچر سے منسلک نہیں۔
یہ بظاہر ایک نامکمل اور غیر استعمال شدہ منصوبہ محسوس ہوتا ہے جسے اوپر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے جیسے اسے میدان کے بیچ میں تعمیر کر کے چھوڑ دیا گیا ہو تاہم حقیقت میں یہ حکومتی منصوبہ بندی اور وعدوں کی تاخیر کا نتیجہ ہے۔
2021 میں اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا جس کا مقصد ایک نجی لاجسٹکس کمپنی کے نئے کنٹینر ٹرمینل کو سہولت فراہم کرنا تھا تاکہ بحیرہ ایڈریاٹک سے آنے والا سامان بغیر بڈاپیسٹ کے ذریعے گزرے براہِ راست یورپی ممالک تک پہنچایا جا سکے۔
فروری 2021 میں ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سییارتو نے منصوبے کا اعلان کیا جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے اس تک رسائی کے لیے سڑک اور راؤنڈ اباؤٹ کی تعمیر کے لیے یورپی یونین فنڈز حاصل کیے۔
2023 تک یہ راؤنڈ اباؤٹ تقریباً 1.25 ملین یورو کے یورپی یونین فنڈز سے مکمل کر لیا گیا تاہم اصل کنٹینر ٹرمینل پر کام ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔
تین سال گزرنے کے باوجود نہ تو لاجسٹکس سینٹر فعال ہو سکا ہے اور نہ ہی ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہو سکی ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ منصوبہ 2029 سے قبل فعال ہونے کے امکانات بھی کم ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ راؤنڈ اباؤٹ عملی استعمال کے بجائے ایک غیر معمولی اور دلچسپ سیاحتی مقام کے طور پر ہی جانا جائے گا۔