امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جہاں ایک روبوٹ مسافر کی موجودگی کے باعث ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی پرواز کو ایک گھنٹے سے زائد تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق ایلی بین ابراہام جو ایلیٹ ایونٹ روبوٹکس سے وابستہ ہیں اپنے چار فٹ لمبے اور تقریباً 31.75 کلوگرام وزنی روبوٹ بیبوپ کے ساتھ اوک لینڈ سے سان ڈیاگو جانے والی پرواز میں سوار ہوئے۔
ایئرلائن ترجمان لن لنزفورڈ کے مطابق مسافر نے روبوٹ کے لیے باقاعدہ ٹکٹ خریدا تھا تاہم ابتدائی طور پر تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ روبوٹ کو گزرگاہ والی نشست پر بٹھانا حفاظتی قواعد کے خلاف تھا۔
بعد ازاں روبوٹ کو کھڑکی والی نشست پر منتقل کر دیا گیا تاہم صورتحال اس وقت دوبارہ پیچیدہ ہو گئی جب عملے نے اس کی بیٹری کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے۔
ایلی بین ابراہام کے مطابق عملے نے روبوٹ کی لیتھیم بیٹری کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں اور بعد میں یہ واضح ہوا کہ بیٹری ایئرلائن کی مقررہ حد سے بڑی تھی۔
پالیسی کے مطابق بیٹری نکال کر ضبط کر لی گئی جس کے بعد روبوٹ کو غیر فعال حالت میں سفر کی اجازت دے دی گئی۔اس تمام کارروائی کے باعث پرواز مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ اور دو منٹ کی تاخیر سے روانہ ہو سکی۔