بھارت میں ریاستی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر سیاسی مبصرین اور عوام دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر مغربی بنگال میں سامنے آنے والی کچھ غیر معمولی کامیابیاں توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ایک گھریلو کام کرنے والی خاتون نے اسمبلی تک کا سفر طے کرلیا۔
مغربی بنگال کے اوشگرام اسمبلی حلقے سے کلیتا ماجی نامی خاتون نے کامیابی حاصل کی ہے، جو عام طور پر گھروں میں برتن دھونے کا کام کرتی ہیں اور ان کی ماہانہ آمدن تقریباً 2500 روپے بتائی جاتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں اسی حلقے سے امیدوار نامزد کیا تھا، جہاں ووٹرز نے ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں رکن اسمبلی منتخب کرلیا۔
انتخابی اعداد و شمار کے مطابق کلیتا ماجی نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 7 ہزار 692 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل ترنمول کانگریس کے امیدوار شیاما پرسنّا لوہار کو انہوں نے 12 ہزار 535 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
ان کی کامیابی کسی اچانک سیاسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل محنت کا نتیجہ بتائی جاتی ہے۔ جس طرح وہ اپنی روزمرہ زندگی میں گھروں میں کام کرتی تھیں، اسی طرح انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بھی گھر گھر جا کر لوگوں سے ملاقات کی اور اپنی بات پہنچائی۔ مہم پر مکمل توجہ دینے کے لیے انہوں نے تقریباً ایک ماہ تک اپنے معمول کے کام سے چھٹی بھی لی۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ کلیتا ماجی اس سے پہلے 2021 کے اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ لے چکی ہیں، تاہم اس وقت انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُس انتخاب میں وہ ترنمول کانگریس کے امیدوار ابھیدنندا تھنڈر سے تقریباً 11 ہزار 815 ووٹوں کے فرق سے ہار گئی تھیں۔
اس بار ان کی کامیابی کو سیاسی حلقوں میں ایک غیر معمولی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک عام پس منظر رکھنے والی خاتون نے انتخابی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔