جیل کی دیواروں کے درمیان شروع ہونے والی ایک غیر معمولی کہانی آخرکار شادی کے بندھن تک جا پہنچی۔ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں تعینات ایک خاتون ڈپٹی جیلر نے ایسے شخص کو اپنا شریکِ حیات بنا لیا جو کبھی اسی جیل میں قیدی کے طور پر سزا کاٹ رہا تھا۔ اس انوکھی شادی نے نہ صرف جیل انتظامیہ بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی حیران کر دیا۔
ستنا سینٹرل جیل میں بطور راؤنڈ آفیسر خدمات انجام دینے والی فیروزہ نے 5 مئی کو دھرمیندر عرف ابھیلاش کے ساتھ ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی۔ شادی کی تقریب چھتر پور کے علاقے لوکش نگر کے ایک میرج گارڈن میں سادگی سے منعقد ہوئی۔ دھرمیندر ماضی میں قتل کے ایک مقدمے میں 14 سال قید کی سزا بھگت چکا تھا اور سال 2020 میں جیل سے رہا ہوا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ دونوں کی قربت اس وقت بڑھی جب دھرمیندر اپنی سزا مکمل کر رہا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق سنجیدہ ہوتا گیا اور فیروزہ نے اس کی رہائی کے بعد اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق یہ رشتہ کسی دباؤ یا مجبوری کے تحت نہیں بلکہ مکمل ذاتی پسند پر قائم ہوا۔
شادی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیروزہ نے کہا کہ ہر انسان کو اپنی نجی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے، اور وہ اپنے اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔ دوسری جانب جیل سپرنٹنڈنٹ لینا کوسٹا نے بھی اس معاملے کو ذاتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیروزہ پہلے سے شادی کے لیے چھٹی پر تھیں اور اپنی نئی زندگی سے خوش ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو سامنے لے آیا کہ تعلقات کبھی کبھار ایسے مقامات پر بھی جنم لے لیتے ہیں جہاں لوگ صرف سختی، قوانین اور سزاؤں کا تصور کرتے ہیں۔