ایران کے شہر مشہد میں ایک ڈاکٹر جوڑے کے سادہ مگر منفرد نکاح نے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی۔ اس شادی کی خاص بات وہ حق مہر بنا جسے سن کر سوشل میڈیا صارفین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
رپورٹس کے مطابق دلہا پیشے کے اعتبار سے سرجن ہیں جبکہ دلہن بھی ڈاکٹر ہیں۔ دونوں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نکاح کے وقت حق مہر کے طور پر یہ طے پایا کہ دلہا اپنی زندگی میں 313 غریب اور نادار مریضوں کے مفت آپریشن کریں گے اور اس کے بدلے کوئی معاوضہ وصول نہیں کریں گے۔
یہ بابرکت نکاح امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں نہایت سادگی سے انجام پایا۔ تقریب آدھے شعبان کے موقع پر منعقد ہوئی، جوڑے نے خواہش ظاہر کی کہ ان کی نئی زندگی دین، خدمت خلق اور روحانی وابستگی کے ساتھ آگے بڑھے۔
حق مہر میں ایک معمولی مالی رقم بھی شامل کی گئی، تاہم اصل اہمیت 313 مفت سرجریوں کے وعدے کو دی گئی۔ اس تعداد کو بھی مذہبی اور روحانی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے، اسی وجہ سے اس فیصلے کو لوگوں نے ایک خوبصورت اور بامقصد روایت قرار دیا۔
یہ خبر ایران سمیت کئی دیگر ممالک میں تیزی سے وائرل ہوئی جہاں صارفین نے ڈاکٹر جوڑے کے جذبے کو سراہا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جہاں شادیوں کو نمود و نمائش اور بھاری اخراجات سے جوڑا جاتا ہے، وہاں اس جوڑے نے سادگی اور انسان دوستی کی ایک مختلف مثال قائم کی ہے۔
اس واقعے نے یہ پیغام بھی دیا کہ شادی صرف دو افراد کا بندھن نہیں بلکہ معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا ایک ذریعہ بھی بن سکتی ہے، خاص طور پر جب تعلیم یافتہ اور باصلاحیت لوگ اپنی صلاحیتوں کو ضرورت مندوں کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔