وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول میں کیمبرج امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک کے معاملے پر ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی ہدایت پر کی۔
اجلاس میں سیکریٹری وزارت تعلیم نادیم محبوب، کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (CAIE) کے نمائندگان، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی، وزارت خارجہ، برٹش کونسل کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزارت تعلیم کے حکام نے کیمبرج او لیول ریاضی کے پرچے کے مبینہ لیک سے متعلق والدین اور حکومتی سطح پر پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے اجلاس کو بتایا کہ معاملہ بظاہر پرچہ لیک نہیں بلکہ چوری سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ کیمبرج کے نمائندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ امتحانات میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کرتا ہے۔
وزارت تعلیم نے ایک اور امتحانی پرچے کے مبینہ لیک سے متعلق رپورٹس پر بھی کیمبرج سے باضابطہ مؤقف طلب کیا، جس پر کیمبرج حکام نے یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے جلد سرکاری طور پر اپ ڈیٹ فراہم کی جائے گی۔
سیکریٹری داخلہ نے مبینہ لیک پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کے فوری اور مؤثر حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی کہ کیمبرج کے ساتھ مل کر مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور تمام فیصلوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کیمبرج اپنے امتحانی نظام میں موجود ممکنہ خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے اپنی استعداد کار مزید بہتر بنائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔