ڈرگ ڈیلر پنکی کون ہے؟ پنکی کراچی کی ابوالحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال اے ون کمپلیکس کی رہنے والی میٹرک پاس لڑکی ہے جس کی عمر 31 سال ہے۔
پنکی نے شروع میں خود منشیات استعمال کرنا شروع کی۔ شراب کے زیادہ استعمال کی وجہ سے جب شراب کا اثر کم ہونے لگا تو اس نے کوکین کی ایک خاص مقدار شراب میں شامل کر کے پینا شروع کیا۔ اسی دوران منشیات فروش رانا اکرم نے پنکی سے شادی کر لی اور پنکی نے اپنے فارمولے کو خود پر آزما کر کے ڈرگز کی سپلائی مارکیٹ میں بھی شروع کر دی۔
پنکی کے فارمولے سے بنی ہوئی ڈرگز مارکیٹ میں بہت جلد مقبول ہو گئی۔ ملزمہ کے 3 بھائی ریاض بلوچ، محمد ناصر اور شوکت بخش منشیات فروشی میں ملوث ہیں، پنکی نے اپنے شوہر رانا اکرم اور تینوں بھائیوں کی مدد سے یہ کام اینٹی نارکوٹکس، ایکسائز اور پولیس کی نظر میں آئے بغیر کافی سالوں تک جاری رکھا۔
سال 2021 میں درخشاں پولیس نے منشیات سپلائی کرنے والے ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا۔ ڈیلیوری رائیڈرز کی گرفتاریاں 2022 تک جاری رہیں۔
ذرائع کے مطابق درخشاں پولیس نے کئی بار پنکی کو گرفتار کیا مگر پنکی ہر بار لین دین کے بعد آزاد ہو جاتی تھی۔پنکی کا کہنا ہے کہ جب کراچی یا لاہور میں کسی کام کی وجہ سے باہر نکلتی تھی تو اپنے ساتھ دو کروڑ لے کر نکلتی تھی تاکہ پکڑے جانے کی صورت میں موقع پر ہی ڈیل کر کے نکل جائے۔
ساوتھ پولیس کی جانب سے ایک سال میں دس بار رائیڈرز کی گرفتاری کے بعد پنکی لاہور منتقل ہو گئی اور وہاں اپنا نیٹ ورک قائم کیا پنکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ لاہور میں کام کرنا کراچی میں کام کرنے سے نسبتاً آسان ہے۔
پنکی لاہور میں خیابان ظفر سوسائٹی رائیونڈ روڈ لاہور میں رہتی اور اپنا نیٹ ورک کامیابی سے چلاتی رہی اسی دوران پنکی کو لاہور پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے گرفتار کر لیا مگر اس گرفتاری کا اختتام پنکی اور ڈی ایس پی کی آپس میں شادی پر ہوا۔
پنکی 2022 سے لاہور اور کراچی میں منشیات کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک چلاتی رہی مگر حیرت انگیز طور پر وفاقی ادارے اے این ایف اور دونوں صوبوں کے ایکسائز ڈپارٹمنٹ پنکی کے نیٹ ورک سے بے خبر رہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ کی جانب سے منشیات کی ترسیل اور فروخت کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وہ ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی اور منشیات کی خرید و فروخت کے لیے آن لائن طریقہ استعمال کیا جاتا تھا۔
نئے گاہکوں کو منشیات فراہم کرنے کے لیے مخصوص حکمتِ عملی اپنائی جاتی تھی جس کے تحت رائیڈر کے بجائے مخصوص مقامات پر منشیات رکھی جاتی تھی جہاں سے خریدار اسے وصول کرتے تھے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف بھی منشیات کی ترسیل میں ملوث رہی ہے۔ منشیات کی ترسیل کے لیے ایک 6 رکنی گینگ سرگرم تھا، جس میں ایک خاتون اور 5 مرد شامل تھے۔
پولیس اور متعلقہ ادارے نیٹ ورک کے دیگر کرداروں کی تلاش اور مزید تحقیقات میں مصروف ہیں۔