عام طور پر مرغی کو سستا اور روزمرہ استعمال کی چیز سمجھا جاتا ہے لیکن دنیا میں ایک ایسی نایاب نسل بھی موجود ہے جس کی قیمت سن کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔ اس خاص مرغی کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان میں اس رقم سے کئی گائیں خریدی جا سکتی ہیں جبکہ اس کا ایک انڈا بھی ہزاروں روپے میں فروخت ہوتا ہے۔
یہ منفرد نسل انڈونیشیا سے تعلق رکھتی ہے اور اسے ایام سلیمانی کہا جاتا ہے۔ اس مرغی کی سب سے حیران کن بات اس کا مکمل سیاہ رنگ ہے۔ صرف اس کے پر ہی نہیں بلکہ جلد، گوشت، ہڈیاں اور یہاں تک کہ اس کے اندرونی اعضا بھی گہرے کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔ اسی غیرمعمولی شکل کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں خاص توجہ حاصل ہوئی اور بعض لوگ اسے مرغیوں کی لیمبورگینی بھی کہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نسل میں ایک نایاب جینیاتی تبدیلی پائی جاتی ہے جسے fibromelanosis کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کے باعث اس کے جسم میں میلانین کی مقدار عام مرغیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے پورا جسم سیاہ نظر آتا ہے۔
ایام سلیمانی کو صرف اس کی شکل کی وجہ سے ہی اہم نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے گوشت کو بھی غذائیت سے بھرپور قرار دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میں پروٹین کی مقدار نسبتاً زیادہ جبکہ چکنائی کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد اسے صحت کے لیے بہتر غذا تصور کرتے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اس نایاب مرغی کی قیمت تقریباً 5 سے 6 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 14 سے 17 لاکھ روپے بنتی ہے۔ حیران کن طور پر اس کا ایک انڈا بھی کئی ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔
انڈونیشیا میں اس نسل کو صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ خاص ثقافتی اہمیت بھی حاصل ہے۔ بعض علاقوں میں اسے روحانی رسومات اور روایتی تقریبات میں استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی مانگ مزید بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرغی کی افزائش آسان نہیں۔ یہ کم تعداد میں انڈے دیتی ہے اور اس کی نسل برقرار رکھنا بھی مشکل سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس کی قیمت عام مرغیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔