شادی کو عام طور پر محبت، خوشی اور نئی زندگی کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر چین میں ایک جوڑے نے اپنے خاص دن کو منفرد انداز دے کر سب کو حیران کر دیا۔ دونوں نے روایتی شادی کی تقریبات کے بجائے ریسلنگ مقابلہ منعقد کیا جہاں دلہا اور دلہن ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔
اس دلچسپ مقابلے کی سب سے منفرد شرط یہ تھی کہ جو ہار جائے گا اسے پوری زندگی گھر کے کام انجام دینا ہوں گے۔ یہ انوکھا واقعہ چین کے صوبے گوئیژو کے شہر زونی میں پیش آیا، جہاں دلہا ہی ین شینگ، جو پیشے کے اعتبار سے پروفیشنل ریسلر ہیں نے اپنی دلہن کے ساتھ مل کر اس غیر معمولی تقریب کا منصوبہ بنایا۔
شادی میں روایتی اسٹیج کی جگہ ایک مکمل ریسلنگ رنگ تیار کیا گیا تھا جبکہ بڑی اسکرین پر دلہا اور دلہن کے درمیان مقابلے کا ڈرامائی پوسٹر بھی آویزاں کیا گیا۔ تقریب کے آغاز میں مختلف ٹیموں کے درمیان بیسٹ آف تھری مقابلے ہوئے جن میں شکست کھانے والی ٹیم کو گھر کے کام کرنے کی علامتی سزا دی گئی۔
مہمانوں نے اس منفرد تقریب کو بے حد پسند کیا اور پورا ہال قہقہوں اور جوش سے گونجتا رہا۔ تقریب کے اختتام پر جب اصل مقابلے کے لیے دلہا اور دلہن رنگ میں اترے تو دلہن نے حیران کن مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلہا کا حملہ ناکام بنایا اور انہیں زمین پر گرا دیا۔
ریفری نے دلہن کو فاتح قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اب وہ ساری زندگی گھر کے کاموں سے آزاد رہیں گی۔ بعد ازاں دلہا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ مقابلے میں حصہ لینے والے تمام افراد تربیت یافتہ تھے اور حفاظت کے تمام انتظامات کیے گئے تھے۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ انہیں تو ویسے بھی ہارنا ہی تھا کیونکہ وہ کبھی نہیں چاہتے کہ ان کی دلہن گھر کے کام کرے۔