سو کر اٹھا تو بینائی سے محروم ہوگیا تھا، کینیا کے نابینا درزی نے مثال قائم کردی

image

میں آنکھوں سے ضرور محروم ہوگیا ہوں، لیکن میں نے اپنے خواب دیکھنا نہیں چھوڑے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اب میں دوسروں پر بوجھ بن جاؤں گا، مگر میں نے فیصلہ کیا کہ جب ہاتھ سلامت ہیں تو محنت بھی زندہ رہنی چاہیے۔

کینیا سے تعلق رکھنے والے نابینا درزی چارلس کی زندگی ایک ہی رات میں بدل گئی، جب وہ معمول کے مطابق سوئے اور صبح اٹھے تو ان کی بینائی مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی۔ اچانک پیش آنے والے اس واقعے نے انہیں شدید صدمے میں مبتلا ضرور کیا، لیکن انہوں نے اپنی معذوری کو اپنی پہچان بننے نہیں دیا۔

چارلس کے قریبی افراد اور محلے کے لوگوں کو ابتدا میں یہی لگا کہ اب وہ شاید دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزاریں گے، لیکن انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے پیشے کو دوبارہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ بینائی ختم ہونے کے باوجود انہوں نے سلائی کا کام جاری رکھا اور ایسے طریقے ایجاد کیے جنہوں نے ہر کسی کو حیران کر دیا۔

وہ کپڑوں کی پیمائش کے لیے اپنے فیتے پر مختلف نشانات بنا چکے ہیں، جنہیں ہاتھ سے محسوس کرکے سائز کا اندازہ لگاتے ہیں۔ چارلس کا کہنا ہے کہ وہ ہر پیمائش کو ذہن میں شمار کرتے جاتے ہیں تاکہ کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔ اسی طرح سلائی مشین میں دھاگا ڈالنے جیسے مشکل کام کے لیے بھی انہوں نے انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔ وہ جھاڑو کی ایک باریک تیلی کو تراش کر اس کی مدد سے دھاگا مشین میں ڈالتے ہیں۔

ان کے گاہکوں کا کہنا ہے کہ چارلس کی سلائی نہایت نفاست سے کی جاتی ہے اور کئی مرتبہ ان کا کام ایسے درزیوں سے بھی بہتر نکلتا ہے جو مکمل بینائی رکھتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق چارلس نے ثابت کیا ہے کہ جسمانی کمزوری انسان کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرتی، اصل طاقت حوصلے اور مستقل مزاجی میں ہوتی ہے۔

چارلس کی کہانی صرف ایک نابینا درزی کی جدوجہد نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو مشکلات کے سامنے خود کو بے بس سمجھ لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ دکھا دیا کہ اگر انسان ہار ماننے کے بجائے راستہ تلاش کرے تو زندگی ہر حال میں آگے بڑھ سکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US